خطبات محمود (جلد 2) — Page 184
تیرا بچہ آخر ملک کے لئے ہی قربان ہوتا ہے یہ غور کرو دنیا داروں کے لحاظ سے یہ کتنی بڑی قربانی ہے اس کی کمر ٹیڑھی تھی مگر وہ ہاتھ کا سہارا دیکر اسے سیدھا کرتی تھی ۔ اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے مگر وہ مصنوعی قہقہ لگاتی تھی ۔ اور کیا تم خیال کرتے ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لایا ہوا پیغام اتنی بھی قیمت نہیں رکھتا اور اس کے اور اس کی اتنی بھی قدر نہیں جتنی اس بڑھیا کو جرمنی کی تھی ۔ اگر واقعہ میں ہمارے جذبات اس عورت سے بھی کم ہیں تو ہم سے زیادہ ذلیل دنیا میں کوئی نہیں اور جتنی گالیاں ہمیں دی جا رہی ہیں۔ ان سے سے ہزاروں گنا زیادہ کے ہم مستحق ہیں۔ اور اس قابل ہیں کہ کتوں سے پھڑوا دیئے جائیں اور درندے ہمیں کھا جائیں آسمان و زمین کا خدا اپنے سپاہیوں میں ہمیں بھرتی کرتا ہے اور مسیح موجود کی جماعت میں جس کی تمام انبیاء خبر دیتے آئے ہیں ہمیں شامل ہونے کی توفیق عطا کرتا ہے مگر ہم کہتے ہیں کہ لڑائی میں زخم کیوں آئے ۔ ہر شخص جو احمدی ہوا ۔ اقرار کرتا ہے کہ وہ خدا کے لئے اپنی جان دینے کے لئے سکتا ہے۔ اور اگر اس کے دل کے کسی گوشہ میں بھی کسی انسان کا ڈر ہے تو وہ دنیا کا ذلیل ترین انسان ہے اسے تو چاہیے کہ ہر وقت سر ہتھیلی پر رکھ کر تیار رہے اور ہر قربانی جو اسے کرنی پڑے اس کے بعد مایوس نہ ہو بلکہ اس کے اندر نئی امنگ اور نیا جوش ہو کیونکہ بھاری تو عید ہی قربانی ہے۔ پس اے دوستو ا لوگوں کے لئے تو سال میں ایک عید ہوتی ہے لیکن تمہارے لئے سال میں تین سو ساٹھ عیدیں ہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں داخل ہو کر تمہارے لئے ہر روز عید ہے ۔ پس خوش ہو جاؤ کہ اللہ تعالے نے تمہیں قربانی کے لئے چنا ہے اس لئے ان مصیبتوں تکلیفوں اذیتوں اور آفات کی قدر کرو کہ یہ کہ نہ بڑھانے والی چیزیں ہیں۔ خطبہ ثانیہ میں فرمایا :- میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالے ہمیں ان دنوں کی قدر کرنے کی سمجھ عطا فرمائے کیونکہ علم کے بغیر بھی کچھ نہیں ہوتا جو اس نکتہ کو نہیں سمجھ سکتے کہ جن مصیبتوں سے ہم گزر رہے ہیں۔ یہ دراصل ہمارے لئے عید ہے ۔ ان کے دماغ روشن کرے تا وہ سمجھ سکیں کہ اللہ تعالے نے انہیں عورت کے کسی مقام پر کھڑا کیا ہے ۔ آج ہمیں جو قربانیاں کرنی پڑتی ہیں وہ در اصل ہیں۔ انعام ہے کیونکہ اللہ تعالے کی طرف سے جن قربانیوں کا مطالبہ ہو وہ انعام نہی ہوتی ہ جیسے کوئی شخص دیکھے کہ بیٹے کو ذبح کیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پیکر از بچ کر سکتے۔ جو دیکھے کہ بکرا ذبح کیا ہے اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کا بیٹا مر جائے گا کاش دوست سمجھ یہ گا۔ کرتے ۔ اور کیں کہ ہر شتر بانی جو ہم سے کرائی جاتی ہے وہ اللہ تعالے کی طرف سے محبت اور پیار کا اظہار ہے۔ ا وولد