خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 183

JAP اس عید کی توفیق دی جو سب سے بڑی عید ہے اگر اللہ تعالے کے فرشتے آسمان سے اترتے اور بادشاہوں کو تختوں سے اتار کر ہمیں ان کی جگہ بٹھا دیتے تو ان گالیوں کے مقابلہ میں ہما سے لئے وہ چیز بالکل حقیر ہوتی۔جن شہداء نے، افغانستان میں جانیں دیں کہ ان کی عزت چین جاپان اور افغانستان وغیرہ کے بادشاہوں سے بہت زیادہ ہے۔اور دنیا کی ہزاروں سال کی بادشاہتیں ان کے مقابلہ میں بیچ ہیں۔آئندہ احمدی بادشاہ جو دنیا کو فتح کریں گے ان کی حیثیت ان شہداء کے مقابلہ میں وہی ہوگی جو میلوان کے مقابلہ میں بچہ کی ہوتی ہے۔یہ قربانیاں کرنے والے خدا تعالے کے دائیں ہاتھ پر تخت پر بیٹھے ہوں گے اور بادشاہتیں کرنے والے مودب سامنے کھڑے ہوں گے۔پس بڑے وہی ہیں جن کو بڑی قربانیاں کرنے کی توفیق ملی۔چند روزہ زندگی کیا ہے؟ اصل زندگی وہی ہے جو آئندہ شروع ہوتی ہے اور وہی ہمیشہ کی زندگی ہوتی ہے۔اِس لئے حقیقی سعید وہی ہے جس میں سے ہم گزر رہے ہیں اور یہ عید محض کسی مہربانی سے نہیں ملتی ، اللہ تعالے کے فضل سے ملتی ہے۔نبیوں کا زمانہ پانا انسان کے اپنے اختیار میں نہیں اور لوگوں کے مانجھنے سے نہیں مل سکتا بغور کرو اگر تم آج سے پچاس سال بعد پیدا ہوتے توکس طرح یہ نعمت پاسکتے یا اگر ساٹھ سال پہلے مرجھاتے تو ان نعمتوں سے محروم رہ جاتے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں اس زمانہ میں پیدا کیا اور پھر عید منانے کی توفیق دی۔اس کے بدلہ میں وہ کہتا ہے کہ جاؤ دنیا میں پھیل جاؤ اور جدھر جاؤ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ اللہ کیر الہ ابر و له الحمد کہو۔خدا کے نام کو بند کرو، اس کی حمد کرو اور گم گشتہ راہ لوگوں کو اس کے حضور ها هر کرو تا وہ بھی اس نعمت سے حصہ پائیں۔پس قدر کرو ان استلاؤں کی اور تکالیف کی جو تم پر آتی ہیں کیونکہ ہر ایک قربانی اور انتہاء تہار سے درجہ کو بڑھاتا اور تمھیں خدا کے قریب کرتا ہے۔یہ دکھ اور تکالیف تمہیں مایوس نہ کریں کیونکہ عید کے دن کوئی مایوس نہیں ہوا کرتا۔عید خوشی کا نام ہے جن لوگوں کو اپنی قوم سے محبت ہوتی ہے وہ کبھی قربانیوں پر رنج نہیں کیا کرتے۔میں نے کسی جگہ پڑھا ہے کہ فرانس اور جرمنی کے جنگ کے ایام میں ایک جرمن پڑھیا کا ایک ہی بیٹا تھا۔اس بڑھیا کی عمر انسٹی بوس کے قریب تھی۔اس کا لڑکا مارا گیا اور وزیر جنگ نے حکم دیا کہ ایک بڑا افسر اس کو بلا کر یہ خبر سنائے اور اس کے ساتھ اظہار ہمدردی کرے لیکھا ہے کہ جب وہ بڑھیا یہ خبر شنکر دفتر جنگ سے باہر نکلی تو اس کی خمیدہ کمر غم کے مارے اور بھی ٹیڑھی ہوئی جاتی تھی۔اس کی آنکھوں سے آنسو پھوٹ پھوٹ کر نکلنا چاہتے تھے مگر وہ تیر کر کے قبضہ مار تھی اور ہاتھ سے کمر کو سیدھا کر کے اونچی ہوتی تھی اور فخر سے کہتی تھی کہ کیا ہوا