خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 168

اس کا ثواب بھی کم ہو جاتا ہے اور وہ اسی صورت میں مفید ہو سکتی ہے جب عادت سے زیادہ کی جائے۔ پس مومن کا ہر دن ایمان اور قربانی اور احساس کے لحاظ سے پہلے سے زیادہ مضبوط ہونا چاہیے۔ کیونکہرا ونکہ لازمی بات ہے ہے کہ ہر قدم پر عادت ہوگی اور اس طرح ہر قدم پہلے پہلے ۔ سے زیادہ اٹھانا پڑے گا یہی چیز ہے جس سے قرب الہی حاصل ہو سکتا ہے۔ مومن کسی ایک جگہ کھڑا نہیں ہو سکتا اگر کھڑا ہو جائے گا تو اس کی قربانی ہیچ ہو جائے گی ۔ اسی مسئلہ کو بیان کرتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مومن نوافل کے ذریعہ قرب الہی میں ترقی کرتا ہے حتی کہ اللہ تعا لیے اس کے ہاتھ ہو جاتا ہے اور اس کے پاؤں ہو جاتا ہے اور اگر وہ اس کی طرف ایک کلام اٹھاتا ہے تو اللہ تعالے اس کی طرف دو قدم اُٹھاتا ہے حتی کہ اس کا وجود خدا کا وجود ہو جاتا ہے ہے۔ اس کے یہی معنی ہیں کہ نوافل کے ذریعہ ترقی غیر محدود ہوتی ہے تو یہ عید اضحی ہے ۔ اور ہمیں قربانی کی طرف توجہ دلاتی ہے اور قربانی بھی احساس والی ۔ دیکھو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا کے لئے قربانی کرنی چاہی اور اپنے اکلوتے بیٹے کو قربانی کے لئے پیش کر دیا ۔ او کر دیا۔ اول تو منشاء الہی یہ الی یہ نہ تھا۔ ان کے رو کے رویا کی تعبیر یہ تھی کہ حضرت اسمعیل کو مکہ میں چھوڑ آئیں تا اس کی نسل دین الہی کی حامل رہے مگر آپ نے اس رویا کو ظاهری را رنگ میں پورا کرنے کی کوشش کی ! کی اور خدا نے الہام کے ذریعہ اس سے روک دیا لیکن محض اس قربانی کے ارادہ کرنے کے صلہ میں اللہ تعالے نے ہمیشہ کے لئے اس کی یاد گارت ئم پھر بھی کر دی ۔ اس کے برعکس ہندوؤں میں ہزاروں ایسے لوگ ہیں جو عملاً اپنی اولادوں کو دیوی دیوتا ہو قم پر قربان کر دیتے ہیں ۔ اگر چہ انگریزی حکومت نے قانوناً اس کی ممانعت کر رکھی ہے۔ سینکڑوں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں مگر ان قربانیوں کا ذکر قرآت سے کرنے کی بجائے ہم ذلت سے کرتے ہیں اور یہی کہتے ہیں کہ یہ لوگ کیسے ہیو قوف ہیں میگر ایسا ہی ایک فعل ابراہیم نے کرنے کا ارادہ کیا اور اس کی ہم اتنی تعریف کرتے ہیں۔ سوچنا چاہیے ان دونوں میں کیا فرق ہے۔ ان میں ایک فرق تو یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ فعل اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت کیا تھا اور یہ لوگ جہالت سے غیر ضروری موقعہ پر کرتے ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ با وجود قربان نہ کر سکنے کے حضرت ابراہیم کے فعل کی عظمت ہمارے نزدیک اس وجہ سے ہے کہ ابراهیمی احساسات بہت بڑھے ہوئے تھے۔ قرآن کریم میں آپ کے متعلق اداہ حلیم کے لفظ آتے ہیں۔ یعنی اس کا دل پگھلا ہوا تھا خالص آہیں بنا ہوا تھا۔ جس طرح اُبلتے اور کھولتے ہوئے پانی سے گیس نکلتی ہے اسی طرح حضرت ابراہیم کا دل اللہ تعالے کے سامنے ایسا جھد کا ہوا تھا کہ ہو ابن بن کر اڑ رہا تھا۔ احساسات کی نرمی ایسی تھی کہ دنیا میں اس کی مثال ملنی مشکل ہے