خطبات محمود (جلد 2) — Page 167
146 کر سکتا ہے کہ جب فرض موجود ہیں تو پھر سنتوں اور نوافل کی کیا ضرورت تھی۔اس میں بھی حکمت ہے کہ جب فرائض کی عادت ہو جائے تو مزید ترقی کے لئے رستہ کھلا رہے اللہ تعالے نے نماز کا کوئی وقت مقرر نہیں کیا، مثلاً یہ نہیں کہا کہ ظہر کی نماز چار بجگرہ منٹ پر ادا کی جائے اور اس سے بھی اللہ تعالے کا منشاء یہی ہے کہ اگر کوئی خلوص دل سے چاہے تو اس میں زیادتی کر سکے پھر نماز میں توجہ کی بھی کوئی حد نہیں رکھی۔وگرنہ پچلے درجہ کے لوگ محروم رہ جاتے ایک شخص معمولی سی توجہ سے زیادہ فائدہ اٹھا لیتا ہے مگر دوسرا اتنا نہیں اُٹھا سکتا جب تک پوری توجہ سے کام نہ لے یہی حال صدقہ و خیرات کا ہے۔ایک طرف زکوۃ رکھدی جس کی حد بندی کردی مگر صد و خیرات کی کوئی حد نہیں رکھی یعنی زکواۃ کے علاوہ نفلی صدقہ رکھا تا انسان جب نہ کوۃ کا عادی ہو جائے تو اس میں ترقی کر سکے۔روزوں کا بھی یہی حال ہے رمضان کے روزے فرض کئے مگر ساتھ نفلی روزے بھی رکھے گیو یا ہر بات میں ترقی کی گنجائش رکھی تا جوں جوں ایک سیکی کی عادت ہوتی جائے اس میں اضافہ اور ترقی کی جاسکے۔عرض شریعیت نے احساس اور عادت پر بنیاد رکھی، چیز پر نہیں۔یہ نہیں کہ دس روپے دینے والا نو روپے دینے والے سے اچھا ہے۔بلکہ احساس کے لحاظ سے ممکن ہے کہ ایک روپیٹر نے والا نو روپے دینے والے سے اچھا ہو۔ایک تنگ دل آٹھ آئنہ دیتا ہے مگر اسے بھی ایک بڑی چیز خیال کرتا ہے لیکن دوسرا جو مشرف ہے وہ دس روپے دے دیتا ہے لیکن اس کے دل میں اس کا قطعاً کوئی احساس تک نہیں ہوتا۔اس سے اس کنجوس کی ایک روپیہ کی قربانی جیسے کرتے ہوئے اس کی جان نکلتی ہے زیادہ قیمتی ہے۔یکی نے پہلے بھی ایک واقعہ سنایا ہے جو میرے ایک عزیز شنایا کرتے ہیں۔وہ ایک دوسرے طالب علم کے ساتھ مل کر رہا کرتے تھے جو احمدی ہے۔ایک دن انھوں نے دیکھا کہ وہ بہت افسردہ خاطر بیٹھا ہے۔دریافت کیا کہ کیا معاملہ ہے۔اس نے جواب دیا کہ امتحان سر پر ہے مگر آج میں نے ٹھیک طور پر پڑھا نہیں اور بہت سا وقت ضائع کر دیا ہے اس لئے میں نے اپنے آپ پر دو آنے جرمانہ کیا ہے انہوں نے پوچھا کہ کیا دو آنے کسی فقیر کو دیدیئے۔کہنے لگے کہ نہیں اگر کسی فقیر کو دے سکتا۔تو خوشی نہ ہوتی۔انہوں نے پو چھا کہ پھر کسی طرح جرمانہ کیا۔اس نے جواب دیا کہ دو آنہ کی ریوڑیاں لے کر کھالی ہیں۔اب بعض طبائع روپیہ کی اتنی قدر کرتی ہیں کہ اپنی جان کے لئے بھی پیسہ خرچ کرنا پست نہیں کرتیں اور سوائے اشد ضرورت کے کہیں خرچ نہیں کرتیں۔ایسا شخص اگر دو آنہ بھی دیتا ہے تو وہ بہت قابل قدر میں۔لیکن جس شخص کے دل میں روپیہ کی قدر ہی نہیں اس کا ثواب بھی کم ہوگا۔اس گڑ کے مطابق مومن کو ہمیشہ نیکی میں ترقی کرنی چاہیئے۔اور یادرکھنا چاہیئے کہ جس نیکی کی عادت ہو جا