خطبات محمود (جلد 2) — Page 166
144 عادی ہو چکا ہے تو اللہ تعالے کے ہاں ان دونوں کو ان کی قلبی کیفیات اور احساسات کے مطابق بدلہ ملے گا۔ نئے احمدی کی تھوڑی قربانی کی قیمت پرانے کی زیادہ قربانی سے زیادہ ہوگی ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دوزخی جب ایک عرصہ تک عذاب اٹھا لیں گے تو پھر ہم ان کی جلدیں تبدیل کر دیں گے۔ کیونکہ جتنی جتنی کسی چیز کی عادت ہو جائے اس کے متعلق حس اپنی ہی کم ہو جاتی ہے۔ باورچی خانے میں کام کرنے والے لوگ بڑی آسانی سے جلتی ہوئی دیگی اٹھا لیتے ہیں لیکن ہم اگر اس سے آدھی گرم کو بھی ہاتھ لگائیں تو ہاتھ جل جائے۔ بعض لوگ گرم چائے پینے کے عادی ہوتے ہیں اتنی تیز کہ دوسرے اسے منہ کے قریب بھی نہ لاسکیں۔ اس کے متعلق مجھے ایک دلچسپ واقعہ یاد آگیا ۔ شا19ء میں جب میں بیمار ہوا ۔ تو حکیم غلام محمد صاحب جو حضرت خلیفہ اول کے شاگرد اور آپ کے مطلب میں کام کیا کرتے تھے وہ اکثر میرے پاس ہی رہا کرتے تھے کیونکہ كو بیماری کی شدت تھی ، وہ رات کو بھی وہیں سو رہتے۔ اسی طرح عبد الاحد خان پٹھان بھی رہیں رہتے تھے ایک دن یونہی ذکر آیا کہ کشمیری اور پٹھان دونوں بہت گرم چائے پینے کے عادی ہوتے ہیں اور یہ سوال پیدا ہو گیا کہ دونوں میں سے کون زیادہ گرم پی سکتا ہے حکیم صاحب کہتے تھے که کشمیری بہت زیادہ گرم پی لیتے ہیں اور عبد الاحد خان کہتے تھے کہ پٹھان ۔ بالآخر تجویز ہوئی کہ دونوں کو اہلتی ہوئی چائے کی ایک ایک پیالی دی جائے۔ اور دیکھا جائے کہ کون جلدی ختم کرنا ہے چنانچہ دونوں کو پیالیاں دی گئیں اور پیٹنے لگے۔ حکیم صاحب پیالی کومنہ کے پاس لے جاتے اور جس طرح کوئی چیز انڈیلتا ہے اس طرح کرتے۔ لیکن سمجھ رہا تھا کہ بھلا اتنی تیز گرم اس طرح کہاں پی جا سکتی ہے ۔ یہ عبد الاحد سے صرف مذاق کر رہے ہیں۔ لیکن چند بار ایسا کرنے کے بعد جب انہوں نے پیالی رکھی تو وہ بالکل خالی تھی۔ اور عبد الاحد نے اس وقت تک ابھی پیالی کا چوتھائی حصہ بھی ختم نہ کیا تھا۔ میرے واہمہ میں بھی یہ بات نہ آسکتی تھی کہ اتنی تیز گرم چائے منہ کے پاس بھی لے جائی جا سکتی ہے۔ مگر یہ عادت کی بات ہے۔ اب اگر فرض کر لیا جائے کہ یہ کوئی ثواب کا کام ہوتا تو میں سمجھتا ہوں وہ لوگ جو اس کے عادی نہیں، بہت زیادہ ثواب پاتے یہ نسبت ان لوگوں کے جنہیں کوئی احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہ گرم ہے کیونکہ قربانی اور اس کی قیمت احساس کے مطابق ہوتی ہے جس طرح دوزخ میں جلدیں بدلی جائینگی تا عذاب کا احساس ہو اسی طرح نیکی کا بھی حال ہے۔ اس میں بھی درجہ بدلنا پڑتا ہے، ورنہ انسان کی نیکی نیکی نہیں رہتی۔ جب ایک نیکی کی عادت ہو جائے تو اس کا اتنا ثواب نہیں رہتا جب تک اس میں کوئی اضافہ نہ کیا جائے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالے نے نیکیوں کے مدارج مقرر کئے ہیں۔ نماز کے فرض مقرر کئے مگر اس کے ساتھ نوافل اور سنتیں بھی لگا دیں ۔ اب ایک شخص خیال