خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 165

۱۶۵ ۲۲ د فرموده ۲۶ مارچ ۱۹۳۳ ء بمقام باغ حضرت مسیح موعود علیہ السلام قادیا) له عید اضحی اپنے نام سے ہی قربانی چاہتی ہے۔ قربانی کے متعلق ایک بات یاد رکھنے والی ہے اور وہ یہ ہے کہ قربانی اپنے نتائج کے مطابق اور اپنے احساس کے مطابق ہوا کرتی ہے چتنی جتنی جس کم ہوتی چلی جائے اتنی ہی قربانی کی قیمت گرتی جاتی ہے اور جتنی جتنی حس زیادہ ہوتی جات اتنی ہی قیمت بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیائے کرام نے کہا ہے کہ عوام کی نیکیاں خواص کی بدیاں ہوتی ہیں ۔ ایک ایسا انسان جس کے دل کی حالت نہایت ہی تنگ ہے اور جس کے دل پر تخیل نے قبضہ کر رکھا ہے اگر وہ دین کی خاطر قربانی کرتا ہے۔ ایک تھوڑی سی قربانی جو دوسروں کی نگاہ میں بالکل حقیر ہے مگر اس کا دل اسی سے خون ہوا جاتا ہے وہ اُسے آفت سمجھتا ہے اور وہ بھی اسے پہاڑ نظر آتی ہے۔ مگر پھر بھی وہ کرتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ خدا کا حکم ہے ایسے شخص کی قربانی یقینا اسی کے طبقہ کے دوسرے آدمیوں کی نسبت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ بعض لوگ لا ابالی ہوتے ہیں مصروف ہوتے ہیں اور روپیہ کی قدر ان کے نزدیک کوئی نہیں ہوتی وہ جو کماتے ہیں اس سے زیادہ خرچ کر دیتے ہیں ۔ ایسا آدمی اگر دین کے رستہ میں بھی بڑھ چڑھ کر منہ پا کر دے تو گو دنیا کے نزدیک اس کی قربانی بڑی ہو، مگر خدا کے ہاں اس کے دل کی حالت کے مطابق ہی اس کی قیمت ہوگی۔ چونکہ عام حالت میں بھی وہ استام سے ہی کام لیتا ہے اس لئے اگر چہ وہ دین کے معاملہ میں بھی اپنے بھائی سے زیادہ دیتا ہے پھر بھی اس کے دل کی حالت اور اس کی نگاہ میں روپیہ کی قدر و قیمت کا موازہ نہ کر کے ہی اللہ تعالے بھی اس کا بدلہ دیگا ۔ اس نے اگر چہ زیادہ قربانی کی۔ اور دوسرے سے زیادہ رقم دی مگر یه رستم کی زیادتی اس نے دین کے بارہ میں ہی نہیں کی بلکہ دنیا کے کاموں تھے کہ لہو و لعب میں بھی وہ ایسا ہی کرنے کا عادی ہے۔ مگر جو شخص دنیوی معاملات میں بھی اپنے اوپر تنگی برداشت کرتا ہے بلکہ ضرورت حقہ کو بھی پورا نہیں کرتا وہ اگر اتنی ہی رسم خدا کے رستہ میں دیدے حقیقی ایک مشرف نے دی ہے تو وہ اللہ تعالے کے ہاں بہت زیادہ قیمت پائے گئی۔ کیونکہ اس نے اپنے احساسات کو قربان کر دیا۔ اسی طرح ایک شخص جماعت میں نیا داخل ہوا ہے اور قربانی کے صحیح معنوں سے آگاہ نہیں وہ اپنے ایمان کے مطابق قربانی کرتا ہے۔ اور اپنے نفس میں خیال کرتا ہے کہ میں نے اپنی جان پر بڑا ظلم کیا ہے۔ مگر ایک پرانا احمدی ہے جو قربانی کا