خطبات محمود (جلد 2) — Page 162
۱۹۲ a ہم نے ایک خلعت دیا مگر اس نے اس کی بے قدری کی شبلی نے جب یہ نظارہ دیکھا تو ایک دم ان کی چیخیں نکل گئیں۔اللہ تعالے ایک تغیر کا وقت لاتا ہے ، اس وقت خدا کے حضور یہی مقدر تھا کہ ہدایت دے۔بادشاہ نے پوچھا شبلی تمہیں کیا ہو گیا مگر ان پر ایسی رقت طاری تھی کہ کچھ دیر تک جواب نہ دے سکے۔اور جب اصرار کیا گیا تو انہوں نے کہا بادشاہ سلامت میرا استعفیٰ منظور کیجئے۔بادشاہ نے کہا: کیا تو پاگل ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا ئیں پاگل تو نہیں ہوا مگر اب مجھے وہ بات سمجھ آگئی ہے جو پہلے میں سمجھ نہیں سکا تھا۔میں نے آجنگ ہر کام آپ کے خوش کرنے کے لئے کیا۔مگر اب یہ نظارہ دیکھنے سے مجھے معا خیال آیا کہ اس جرنیل نے کتنی بڑی خدمات سر انجام دی تھیں۔یہ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر بیوی کو بیوہ ہونے کے خطرہ ہیں اور بچوں کو یتیم ہونے کے خطرہ میں ڈال کر سالہا سال تک تکالیف برداشت کرتا رہا۔اس کے بدلہ میں آپ نے جو اسے خلعت دیا وہ اس کی خدمات کے مقابلہ میں کیا حقیقت رکھتا ہے مگر اس کی ایک معمولی سی فرد گذاشت پر آپ نے اس پر اتنا عتاب نازل کیا۔اس کا خلعت اتار لیا۔اس کی جائیداد ضبط کرلی اور اسے بر سر دربار ذلیل کرایا۔مجھے بھی خدا نے ایک خلعت دی تھی مگر میں نے اپنے گناہوں کی وجہ سے اُسے سر سے پیر تک خراب کر لیا ہے۔اب مجھے اجازت دی جاے کہ میں اپنی باقی عمران گناہوں کے داغوں کو دھوتے ہیں صرف کر دوں لکھا ہے وہ اتنے سخت ظالم تھے کہ وہ کئی صوفیا کے پاس گئے اور کہا میری توبہ قبولی ہو سکتی ہے یا نہیں مگر سب نے یہی کہا کہ تو اتنے ظلم کر چکا ہے کہ اب تیری توبہ قبول ہونے کی کوئی صورت نہیں۔آخر حضرت جنید یا کسی اور بزرگ کے پاس رمجھے ٹھیک یاد نہیں، وہ گئے اور انہوں نے کہا کہ ہاں توبہ قبول ہوسکتی ہے۔مگر یہ شرط رکھی کہ جن جن پر تم نے ظلم کیا ہے ان تمام کے دروازوں پر جاؤ اور ہر ایک سے معافی مانگو۔آخر وہ ہر شخص کے دروازہ پر گئے اور انہوں نے معافی مانگی شی اب وہی شبلی روحانی ہادیوں میں شمار ہوتے ہیں اور انہیں روحانیات میں بہت بڑا درجہ اور مقام حاصل ہے پیس انسان کے لئے ہر وقت مدارج کا دروازہ کھلا ہے اور اللہ تعالے کے انبیاء اسی لئے آیا کرتے ہیں کہتا وہ لوگوں کو گڑھوں سے نکالیں اور انہیں روشنی کے بلند مینار پر کھڑا کر دیں۔پس یه سمت خیال کرو کہ تمہارے اندر کمزوریاں پائی جاتی ہیں اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے سے یہ تمام کمزوریاں دور ہو سکتی ہیں اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کی تو به اس وقت تک اللہ تعالے قبول کرتا ہے۔ما لم يُغر غیر جب تک اس پر موت طاری نہیں ہوتی اور جب تک اس کا دماغ پراگندہ نہیں ہو جاتا۔پس ان باتوں سے ڈرنا اور گھبرانا نہیں چاہیئے۔بلکہ ہمیشہ ترقی کے لئے کوشش کرتے رہنا چاہیئے۔اللہ تعالے نے ایک نبی بھیج کر اب پھر