خطبات محمود (جلد 2) — Page 9
9 خدا تعالے کے لئے تدلل اختیار کر سکے ۔ اس سے ایسا مطالبہ ہی بیجا ہے۔ یہ تو صرف انسان ہی میں قدرت ہے ۔ پس حقیقی معنوں میں عابد انسان ہی بن سکتا ہے یہ مرتبہ تو ملائکہ بھی نہیں حاصل کر سکتے ۔ اس لئے انسان ہی کی پیدائش کی غرض یہ ہوئی کہ خدا کا عبد بنے اور اپنی تمام خواہ ان تمام ارادوں کو ترک کر کے خدا کے حضور جھک جائے ۔ پھر انسان کو اس راہ میں کامیاب کرنے کے لئے اور اس کا درجہ بڑھانے کے واسطے کچھ ایسی شمشیں بھی رکھیں جو عبادت کے خلاف اس کو کھینچیں۔ لیکن ساتھ ہی اپنی ساتھ ہی اپنی طرف سے پکارنے طرف والے بھی بھیجتا ہے جو انسان کا قدم صراط مستقیم سے پھیلنے نہ دیں اور پھر چونکہ ایسے لوگ ایک خاص مدت کے بعد آتے ہیں اس لئے خود انسان کے اندر ایسی طاقتیں نیکی کی رکھی ہیں جو ان محرکا بدی پر غالب آسکیں یا کم از کم نیکی اور بدی میں تمیز کر سکیں ۔ " یہ آیت جو میں نے اس وقت پڑھی ہے اس میں ایسے منادوں کا ذکر ہے جو خدا کی طرف سے انسان کو اس کی پیدائش کی غرض پر متوجہ و قائم کرنے کے لئے آتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ! ہم نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی۔ وہ آواز کیا تھی۔ تجارت یا مال اسباب کی طرف بلانے کے لئے نہ تھی بلکہ وہ ایک پاک مناد کی آواز بھی جو یہ پکارتا تھا کہ انسانو اتم مان لو کیس کو مان لو ؟ امنوا بربكم تم اس خدا کو مان لو جس نے پیدا کیا اور اد نے حالت سے بڑھا کر بڑے درجے تک ترقی دی۔ اس کے احکام کو قبول کرو۔ ہم نے اس کی بات کو قبول کر لیا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا الہی ہم نے مان لیا۔ مگر تیرے احکام پر چلنا بڑا بھاری کام ہے پہلے بھی بہت غلطیاں کر چکے ہیں آگے بھی لغزشوں سے از خود محفوظ نہیں رہ سکتے اس لئے آپ سے درخواست ہے کہ حضور ربّ ہیں چھوٹے سے بڑے کو ترقی دینا آپ کا کام ہے ۔ پس ہمارے ایکان کو بڑھا دیجئے۔ گناہ معاف ہوں ۔ وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَّاتِنَا۔ روکیں مٹ جائیں بلکہ بدیوں کو ہٹا ہی دیں ۔ سزا سے بچائیں ۔ وَتَوَفَّنَا مَعَ الأَبْرَارِ - نیکوں میں شامل کر کے وفات دیں ۔ ربنا وَاتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ - اپنے رسولوں سے تو نے جو وعدے کئے تھے ، وہ وعد سے پورے کردے ۔ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيمَةِ اور ہمارے اعمال کو اپنے احکام کے ایسا ماتحت کر دے کہ قیامت تک دکھ اور تکلیف نہ پہنچے تیرے حضور شرمندہ نہ ہوں سزا کے مستوجب نہ نہیں۔ یہ آواز ہے جو منادی دیتے ہیں اور جو اس مناد کے قبول کرنے والے کہتے ہیں اور دنیا کے لئے سب سے بڑی عید کا دن تو یہی ہوتا ہے کہ ان میں کوئی آیات اللہ پڑھنے والا، انہیں خدا سے نصرت کی بشارت دینے والا ہو ۔ انہیں ان کے محبوب و معبود سے ملانے والا ہو ۔ اس سے بڑھ کر کوئی خوشی کا دن نہیں ہو سکتا ۔