خطبات محمود (جلد 2) — Page 160
14° خود خدا کو غیرت آئے گی اور کہے گا میرا بندہ مجھ سے کیوں نہیں مانگتا۔ اس دن وہ اُجڑے ہوئے گھر جن کو آج دنیا ویران خیال کرتی ہے۔ آباد کر دیئے جائیں گے ، وہ دنیا کا مرکز بن جائینگے ۔ اور جس طرح حج کے لئے لوگ مکہ میں جاتے ہیں اسی طرح وہ لوگ جو دین کے لئے قربانی کرنے والے ہیں ، ان کے گھر بھی لوگوں کا مرکز ہو جائیں گے۔ قربانی بے شک بڑی ہے مگر انعام اس سے بھی بڑے ہیں۔ میں نے ابھی کہا تھا کہ اگر حضرت ابراہیم کی قربانی کے نتائج اس وقت دشمنوں کو معلوم ہو جاتے تو وہ بھی اپنی اولادوں کے اولادوں کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتے اور بڑے بڑے دشمن تمنا کرتے کہ کاش ہم سے سب کچھ لے لیا جائے اور ہماری اولاد کو اس داری میں رہنے کے لئے جگہ دی جائے ۔ یہی حال آئندہ ہونے والا ہے ۔ آج جو لوگ تم میں سے بیچے طور پر اسلام کی خدمت کے لئے نکلیں گے خدا ان کے لئے وہی نمونہ دکھائے گا جو اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کے لئے دکھایا وہ اور اس کی اولاد ہمیشہ کے لئے اللہ تعالی کی رحمت اور اس کے بے انتہا فضلوں کی وارث ہو گی ۔ اور وہ کبھی نہ اس جہان میں ضائع کئے جائیں گے اور نہ اگلے جہان ہیں۔ پس آج ایک موقع ہے۔ وہ شخص جو عقل رکھتا ہے اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ مگر وہ جو نادان ہے کاش وہ پیدا ہی نہ ہوتا کیونکہ اس قدر عظیم الشان موقع ملنے کے باوجود وہ اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہا۔ خطبہ ثانیہ میں فر مایا :- ہر دن کی کچھ نہ کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ عید کے دن جو ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے اس کے کے اظہار کے لئے اس دن اسلام نے عبادت زیادہ کر دی۔ اور اس ادت زیادہ کر دی۔ اور اس طرح بتایا کہ ہر خوب موقع پر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنا چاہئیے کیونکہ وہی تمام خوشیوں کا منبع ہے۔ عید کیا ہے۔ یہ ایک صفائی کا دن ہے اور اس دن ایک اور عبادت رکھ کر سمجھایا کہ حقیقی صفائی عبادت سے ہی ہوتی ہے ۔ مگر یہ صفائی انہی کو نصیب ہوتی ہے جو مایوس نہیں ہوتے۔ کئی لوگ ایسے ہیں جو اپنی زندگی کے گناہ دیکھ کر کہہ دیا کرتے ہیں کہ کیا خدا ہمیں بھی معاف کر سکتا ہے۔ حالانکہ اگر یہ سمجھا جائے کہ کوئی ایسا گناہ بھی ہے جسے خدا بخش نہیں سکتا۔ تو میرے نزدیک اس کا تو صاف طور پر یہ مطلب ہوگا کہ خدا بڑا نہیں بلکہ نعوذ باللہ شیطان بڑا ہے۔ اللہ تعالے فرماتا ہے۔ اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعا خدا تعالے تمام قسم کے گناہوں کو بخش دیتا تعالی قسم کے نه صرف گناه بخشتا ہے بلکہ وہ انسان کو اعلیٰ درجہ کی روحانی ترقیات بھی عطا کرتا ہے ، صرف اپنے دل میں تبدیلی پیدا کرنی چاہیئے ۔ جب ہم بچے تھے تو ہم سکول کی کتابوں میں ایک نہایت ہی لطیف حکایت پڑھا کرتے تھے۔ لکھا ہے کہ سید عبد القادر حسینائی جب بارہ تیرہ سال کے ہوتے ہے اور نہ صہ