خطبات محمود (جلد 2) — Page 159
۱۵۹ ہی نیک تھا فوت ہو گیا ہے ، اللہ تعالیئے اس کی مغفرت کرے۔ اس نے بتایا کہ امرتسر میں جب ایک دفعہ جلسہ روک دیا گیا اور ارادہ ہوا کہ دوبارہ اسی جگہ جلسہ کیا جائے تو اس وقت مخالفت بہت زیادہ تھی اور لوگ کہتے تھے کہ اگر احمدی جلسہ کریں گے تو ہم انہیں ماریں گے۔ اس عورت نے سنایا، میرا لڑکا آیا اور کہنے لگا ۔ اماں جی میں امرت سر چیلا ہوں۔ میں نے کہا بیٹیا ! میں نے تو سنا ہے مخالفت بہت زیادہ ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ ہم احمدیوں کو ماریں گے۔ وہ کہنے لگا ۔ باقی لوگ جو وہاں جائیں گے وہ بھی تو اپنی ماؤں کے بچے ہوں گے ۔ اگر ساری باتیں ہیں کہنے لگ جائیں تو پھر دین کی خدمت کون کرے گا۔ تو کئی مائیں ہیں جن کے دلوں میں پیشیال آتا ہو گا کہ ان کے بچے دین کی خدمت کے لئے گئے ہوئے ہیں ، نہ معلوم ان کا کیا حال ہوگا ۔ اور کئی بچے ہیں جو خیال کرتے ہوں گے کہ اگر ہم دین کی خدمت کے لئے نکلے تو ہماری مائیں کیا کریں گی ۔ میں ایسی ماؤں اور بچوں سے کہتا سے ہوں کہ حضرت ہاجرہ کا بھی ایک بچہ تھا اور حضرت اسمعیل کی بھی ماں تھی اور حضرت ہاں تھی اور حضرت ہاجرہ کے احساسات دوسروں کی ماؤں سے زیادہ تھے کیونکہ جتنی جتنی معرفت بڑھتی چلی جائے اتنے ہی احساسات تیز ہوتے جاتے ہیں ۔ چنانچہ دیکھ لو موٹی عقل والے زیادہ تکالیف بغیر کسی قسم کے احساس کے احساس کے برداشت کر لیں گے۔ مگر جیسے جیسے انسان تعلیم یافتہ ہوتا چلا جائے ، اس کی جس بڑھتی جاتی ہے ۔ اسی طرح جلنا زیادہ کوئی شخص خدا کا مقرب ہوتا جائے ، اس کی جس بھی اسی نسبت سے ترقی کر جاتی ہے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَاكَ الَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ ۔ لوگوں کے مومن نہ ہونے کا ہمیں بھی صدمہ ہوتا ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صدمہ کی کیفیت بالکل جدا گانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تجھ پر اس صد کا اتنا اثر ہے کہ گو یا تجھ پر پھری چل رہی ہے جس سے گردن ہی کٹ جائے گی ۔ باخع تلوار کے گردن کی پچھلی رگ تک پہنچ جانے کو کہتے ہیں ۔ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عرفان اور حسن کی زیادتی کا ثبوت ہے۔ پس یاد رکھو ہم پر ایک بہت بڑی ذمہ دار کا اند ہوتی ہے اور ہماری فید اسی دن ہو گی جب ہم حقیقی طور پر اپنی ذمہ داری کو پورا کریں گے وہی دن ہمارے لئے عید کا دن ہوگا۔ اور اسی دن خوش ہونا ہمارے لئے حقیقی خوشی کا ثبات ہو گا ۔ اسی دن ہمارا حق ہوگا کہ ہم فرش کے کنگرے پکڑ کر کہیں کہ اسے خدا اہم لئے اپنے فرائض کو پورا کر دیا۔ اب تو اپنے انعامات سے ہمیں سرفراز فرما۔ اور یقینا خدا تمہیں اپنے الغابات دے گا ۔ پس مومن وہی ہے جو اس عید کے لئے تیاری کرے ۔ اس دن جو بھی وہ دعا کرے گا خدا اسے قبول کرے گا۔ بلکہ خدا کہے گا کہ میرے بندے مانگ کہ میں تجھے دوں ۔ اس دن