خطبات محمود (جلد 2) — Page 151
10 مشرکوں کو موحد بنا کر رہے گی اور یہ یقین تو کل اور ایمان ہی تھا جو ان کو مایوس نہیں ہونے دیتا تھا۔ اور یہ بھی ان کے ایمان کا ثبوت ہے کہ ایمان کا ثبوت ہے کہ جب خدا نے ان کا سوز و گداز دیکھا تو و قرآن مجید میں ہے ان کا ایک نام اقوال رکھا گیا۔ گویا وہ دنیا کی ہدایت کے غم میں مجسم سوز و گداز ہو گئے تھے اور ان کا یہ سوز و گداز اس حد تک پہنچا ہوا تھا کہ جب انہوں نے خدا کے حضور دعائیں کیں تو انہوں نے کیا۔ اسے خدا میں ہی نہیں چاہتا کہ آج ہی گمراہ لوگوں کو ہدایت حاصل ہو۔ بلکہ میری یہ دعا، کہ جب بھی شریر دنیا میں شرارت کویں شیطان مگراسی اور ضلالت پھیلانا چاہے تیری طرف سے ہدایت دینے والے آتے رہیں ۔ اور ہمیشہ ہمیش ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں جو نیکی کو پھیلانے والے اور توحید کو قائم رکھنے والے ہوں ۔ خدا تعالے نے ان کی دعاؤں کو قبول کیا اور فرمایا بہت اچھا لیکن بدوں میں رہ کر چونکہ نیکی کا بیچ پنپ نہیں سکتا میٹھے دودھ میں اگر لیتی یا اور کوئی ترش چیز تھوڑی سی بھی ملائی جائے تو وہ خراب ہو جاتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا ۔ میں نے تیری دعائیں سنیں لیکن اگر واقعی تیری ہمدردی بنی نوع انسان سے اس قدر بڑھی ہوئی ہے تو تو جا اور اپنے بیٹے کو قربان کر ۔ لوگوں سے الگ اسے خاص میری حفاظت میں رکھتا کہ علیحدہ ذخیرہ میں ایک پنیری لگائی جائے ۔ نیکی اور تنقونی کی پنیری ۔ ایک چشمہ پھوڑا جائے ، پاکیزگی اور طہارت کا چشمہ حضرت ابراہیم نے کہا ۔ بہت اچھائیں تیار ہوں ۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو اس بیٹے کو جو بڑھاپے میں نصیب ہوا، اس وادی غیر ذی زرع میں چھوڑا جس کے متعلق خدا تعالے کہتا ہے کہ اس میں کھانے کا کوئی سامان نہیں تھا اس میں پانی نہیں تھا یہاں تک کہ خدا نے زمزم کا چشمہ پھوڑا ۔ اور کھانے کی کوئی چیز نہ تھی کیونکہ اس کا نام ہی وادی غیر زرع تھا۔ ایسی ادی میں حضرت ابراہیم نے اس لئے اپنے بیٹے اور اس کی والدہ کو چھوڑا تاکہ خدا کا ذکر بلند ہوا اور اللہ تعا لٰے کی کھوئی ہوئی عظمت دنیا میں پھر قائم ہو۔ چنانچہ حضرت ابراہیم کی دعا بتاتی ہے کہ انہیں اسی لئے وادی غیر ذی زرع میں رکھا گیا تھا تا وہ نیکی اور تقویٰ قائم کرنے والے نہیں چنانچہ وہ دعا کرتے ہیں۔ اے خدا میں نے انہیں اس لئے یہاں رکھا ہے کہ وہ نمازیں پڑھیں، اور تیرے ذکر کو دنیا میں قائم کرنے والے بنیں۔ پیس ایسی جگہ او ناد رکھنے کے معنے یہ تھے کہ بڑے اثرات سے وہ اپنی اولاد کو محفوظ کر دیں اور نیکی کا بیج ہمیشہ قائم رکھیں۔ یہ کیا چیز تھی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قائم کی تم جانتے ہو؟ا یہ وہ چیز تھی جس کے ذریعہ خدا نے کفر اور اسلام میں میں امتیاز قائم کیا ۔ اسی لئے اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے ۔ ھو سماكم المسلمين له ینی ابراہیم وہ پہلا شخص ہے جس نے کفر و اسلام میں امتیاز قائم کیا۔ یوں تو ہر نبی کے ذریعہ کوئی نہ کوئی کام ہوا ہے ، کسی تعلیم کی بنیاد حضرت آدم نے رکھی کسی تعلیم کی بنیاد حضرت نوح نے