خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 148

۱۴۸ ۲۱ د فرموده ۶ را پر میل و به قام باغ حضرت مسیح موعود علیہ السلام قادیا، آج سے چار ہزار سال پہلے دنیا میں ایک ہے انسان نے پیچھے اخلاص کا نمونہ دکھایا دکھایا تھا ۔ اس سچے اخلاص کے نتائج آج تک دنیا کو مل رہے ہیں کہ اور کی بستی ہیں ، اُس علاقہ میں جو اس زمانہ میں عراق کہلاتا ہے ، ایک مشرک گھرانے میں ایک بچہ پیدا ہوا ۔ اس نے ایسے لوگوں میں تربیت پائی جن کا رات دن کا مشغلہ خدا کے شریک بنانا اور ایسی چیزوں کی پرستش کرنا تھا جو اپنے اندر کوئی طاقت و قوت نہ رکھتی تھیں ۔ وہ بچہ ایک نورانی دل دل لے کر پیدا ہوا ۔ ا خدا کی جو ہر شناس نگاہ نے دنیا کی بڑھتی ہوئی گمراھی اور اس کے طوفان ضلالت کو دیکھ کر چاہا کہ بنی نوع انسان میں سے کسی کو اپنا بنائے اور اس کی نگاہ نے اس کندیوں کی بستی میں سے ابراهیم نامی بچہ کو چنا اور اسے اپنے فضل سے ممسوح کیا جس قسم کے خاندان میں اور جن حالات میں ابراہیم کی پرورش ہوئی اس سے ظاہر ہے کہ اسرائیلی تاریخوں سے پتہ چلتا ہے جب ابراہیم بارہ تیرہ سال کے ہوئے تو ان کے چچا نے جن کے پاس وہ رہتے تھے کیونکہ آپ کے والد سکھین میں ہی فوت ہو گئے تھے، انہیں اپنی دکان پر بٹھایا ۔ وہ دکان کس چیز کی تھی وہ ثبت فروشی کئی دکان تھی۔ ابراہیم نے اس دکان پر بیٹھتے ہی پہلی دفعہ یہ محسوس کیا کہ ان پتھروں اور مٹی کے بنے ہوئے بتوں میں بھی کوئی اہمیت سمجھی جاتی ہے۔ اپنے بچپن کے لحاظ سے انہیں اس وقت تک یہ احساس نہ تھا کہ ان کی قوم انہیں کسی حد تک عظمت دیتی ہے جب اس دکان پر بیٹھے اور انہوں نے اپنے بھائیوں سے پوچھا کہ ان تونگی کیا غرض ہے اور انہیں بتایا گیا کہ لوگ انہیں لے جاتے اور ان کی پوجا کرتے ہیں تو انہیں تعجب آیا۔ یہودی تاریخوں میں لکھا ہے کہ ایک بڑھا گاہک جس کی داڑھی سفید ہو چکی تھی ستر اسی سال کی عمر تک پہنچ چکا تھا ایک دن آیا اور بیت طلب کیا۔ اور آخر بڑی تلاش کے بعد اس کو ایک بہت پسند آیا۔ جب وہ قیمت ادا کرنے لگا تو حضرت ابراہیم نے اس کا موند تعجتنب سے لکھتے ہوئے کہا۔ اتنی احتیاط سے یہ ثبت کیوں لے رہے حضرت ہو ۔ بڑھے نے جواب دیا ۔ میں اسے اپنے گھر میں رکھوں گا اور اس کی پرستش کروں گا کروں گا تب ابراہیم نے جیسے فطرت سے نیکی عطا ہوئی تھی حیرت سے کہا۔ یہ بہت تو کل بنا ہے اور تم ستر اسی سال کے بڑھے ہو۔ تمہاری داڑھی سفید ہو چکی ہے کیا تم اس کے سامنے جھکو گے یہ سنکر اس پر ایسا اثر ہوا کر لکھا ہے اس نے بہت وہیں پھینک دیا اور چلا گیا۔ تب آپ کے چچیرے بھائیوں نے چچا سے