خطبات محمود (جلد 2) — Page 146
۱۴۶ اس سے ابراہیم علیہ السلام کو نہیں روہ۔ وہی خدا جس نے تیز چھری سے ذبح کرنے کے وقت کہا تھا یہ لغو ہے، فضول ہے ، اس کی ضرورت نہیں۔ اس سے زیادہ خطر ناک قربانی کرتے ہوئے دیکھ کر نہ صرف یہ کہ منع نہیں کرتا۔ بلکہ فرماتا ہے۔ ہمارا منشا یہی ہے ۔ وہ وہ ریم و کریم و شفیق ہستی ہے جس جس نے حضرت برایم علیہ اسلم کو حضرت اسمعیل علیہ السلام کے گلے پر چھری پھلانے سے روک دیا اس نے اُسے مکہ میں چھوڑنے سے نہ روکا بلکہ خود اس کا حکم دیا ۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ چھری سے ذبح کر دینے کے کوئی معنے نہ تھے اور اس کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ لیکن غیر ذی زرع جنگل میں چھوڑ آنے کے معنے تھے ، خدا تعالیٰ کی عبادت کو قائم کرنا مقصود تھا۔ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت من خیل علیہ السلام کو چھری سے ذبح کر دیتے تو اس کا کیا فائدہ تھا۔ زیادہ سے زیادہ ایماندار لوگ مزے سے لیکہ یہ حکایت بیان کرتے۔ اور جو کمزور ایمان رامیان والے ہوتے ، وہ زیادہ سے زیادہ اسی نقطہ نگاہ سے والے۔ اسے دیکھتے جس سے فری تھنکر سوسائٹی کے بانی نے دیکھا۔ فرانس کا ایک لڑکا جو بعد میں دہریت کا بانی ہوا ۔ وہ اپنے باپ اکلوتا بیٹا تھا۔ دس بارہ سال کی عمر میں وہ اپنے باپ کے ساتھ پہلی دفعہ گر جائیں گیا ۔ وہ کہتا ہے خوش قسمتی سے الیکن ہم تو اسے بدقت ہم تو اسے بد قسمتی ہی کہیں گے، پادری فضان نے اس وقت اسحاق کی قربانی پر وعظ کیا ۔ رعیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت اسحق کی قربانی کی گئی تھی نہ کہ حضرت اسمعیل کی اور بتایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کر دیا ۔ جوں جوں پادری صاحب یہ بیان کرتے مجھے خیال ہوتا کہ میں بھی اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا ہوں ۔ اگر میرا باپ بھی مجھے ذبح کر کے خدا کو خوش کرنا چاہئے تو کیا ہو ۔ اس خیال کا مجھ پر اس قدر غلبہ ہوا کہ مجھے یقین ہو گیا کہ میرا باپ مجھے ضرور دیج نام رے کر ڈالے گا۔ جونہی وعظ ختم ہوا ختم ہوا ، میں دوسرے دروازہ سے بھاگ گیا اور سمندر کے کنار پہنچا ۔ امریکہ کو ایک جہاز جا رہا تھا اس میں سوار ہو گیا۔ ماں باپ کے لئے میرے دل میں کوئی محبت نہ رہی اور میں نے خیال کیا کہ یہ ظالم ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی مجھے خدا سے بھی نفرت ہو گئی اور میں نے دوسروں کو بھی اپنا ہم خیال بنانا شروع کر دیا ۔ آہستہ آہستہ دہریوں کی ایک بڑی جماعت بن گئی ۔ یہ لوگ لاکھوں کی تعداد میں اختبار اور رسالے شائع کر رہے ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ دنیا خدا کا انکار کر دیے۔ تو ممکن تھا کہ اگر حضرت ابراہیم حضرت سمعیل کو ذبح کر دیتے تو اور بھی کئی لوگ کہہ اٹھتے کہ ہم ایسی ظالمانہ تعلیم اور ایسے خدا کو نہیں مانتے۔ لیکن جس قربانی کا خدا نے حکم دیا وہ کتنی زبردست ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ آج تک خدا تعالیٰ کی عبادت اس گھر سے وابستہ ہے جس کا قیام حضرت اسمعیل علیہ السلام کے ذریعہ ہوا میگہ کی آبادی اور اس بات کا علم کہ الہ تعالے کی توحید کا مرکز اور سر چشمہ مکہ ہے، یہ تمام باتیں حضرت سمعیل