خطبات محمود (جلد 2) — Page 143
پو پھٹنے کے بعد کھانا کھا لیا بلکہ اگر روسیت آفتاب کے بعد بھی چند گھونٹ پانی پی لیا با کچھ کھانا کھالیا توانس میں کونسا حرج ہے۔یہ کہنے والے کسی زمانہ میں جو نا ہوں کا کام کیا کرتے تھے۔انہوں نے خواب دیکھا کہ تانی کو خشک کرنے کے لئے ایک کیلے کے ساتھ باندھا اور دوسری طرف دوسرے کیلئے سے باندھنے گیا لیکن تانی کیلئے سے دو انگل کے قریب کہ رہ گئی لیکن کھیلا کچھ دور تھا وہ بیان کہتے ہیں کہ میں نے ہزار کوشش کی کہ کسی طرح تانی کیلئے تک پہنچ جائے، مگر اب بے سود آخر گھبرا کر میں نے رشتہ داروں کو آواز دی کہ دور کہ آؤ ، دو انگل کی وجہ سے میری تا نی خراب ہو جائے گی اِس پر آنکھ کھل گئی اور سمجھے آگئی کہ چند منٹ آگے پیچھے روزہ رکھنے یا انکار کرنے کے متعلق میکں جو کچھ بیان کر رہا تھا اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے متعلق آگاہ کیا ہے۔تو عض باتیں بظاہر چھوٹی ہوتی ہیں لیکن بلحاظ انت سج نہایت اہم ہوتی ہیں۔اپنی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اوقات کے لحاظ سے عید الفطر اور عید الاضحی میں فرق کیا ہے ہے وہ دیر سے پڑھائی جاتی ہے اور یہ جلدی کیونکہ اس کے متعلق محکم ہے کہ نماز کے بعد قربانی کی جائے، اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنا دستور یہ تھا کہ آپ قربانی کے گوشت سے ہی کھانا شروع فرماتے تقیہ اس دن روزہ تو نہیں ہوتا تھا لیکن نیم روزہ ضرور ہو جاتا تھا آپ صبح کچھ نہیں کھاتے تھے اور پھر قربانی کے گوشت سے افطار کرتے توحید الا ضحی کی نماز جلد ادا کی جاتی۔لیکن میں دیکھتا ہوں ہماری جماعت میں اس حکم کے متعلق بہت کم توجہ ہے کمزوروں کا لحاظ کرنے کی وجہ سے گویا یہ ایک قاعدہ بن گیا ہے کہ عید کی نماز ایسے وقت پر ہو تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طریق کے مطابق نہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ یہ بانی معمولی ہیں اور جماعت کی تربیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسے امور میں ڈھیل دی جا سکتی ہے لیکن اس کا بھی ایک وقت اور ایک حد ہونی چاہیئے۔ہماری جماعت کی عمر ۲۲ سال ہو گئی ہے اور متو انز بلاناغہ یہ ڈھیل چلی آتی ہے۔میں سمجھتا ہوں اس وقت تک یہاں ایک نماز بھی اس وقت پر نہیں ہوئی ہوگی جو احادیث میں آتا ہے۔آج ساڑھے آٹھ بجے کا وقت مقرر تھا مگر 9 بجے نماز پڑھائی گئی۔اور اب کہ میں خطبہ پڑھا رہا ہوں بلکہ خطبہ کا بھی ایک حصہ بیان کر چکا ہوں نہ صرف عورت میں ملکہ مرد بھی نماز پڑھنے کے لئے چلے آرہے ہیں اس اندازہ کو مد نظر رکھتے ہوئے انجے وقت ہوا اور دس پنجے موسع وسط کے قریب قریب پہنچ جاتا ہے۔حالانکہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب سورج نیزہ بھر اونچا ہوتا تو عید الاضحی کی نماز ادا کی جاتی ہیے اور اس لحاظ سے اگر سوا چھ بجے سورج کا طلوع ہو تو نماز سات بجے تک ہو جانی چاہیئے۔لیکن پرانی عادت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے نو بجے پڑھی اور اب بھی بعض لوگ عید پڑھنے کی خواہش سے برابر چلے آرہے ہیں۔