خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 143

۱۴۳ تساب پو پھٹنے کے بعد کھانا کھا لیا بلکہ اگر رویت آفتاب کے بعد بھی چند گھونٹ پانی پی لیا یا کچھ کھانا کھا لیا تو اس میں کونسا حرج ہے ۔ یہ کہنے والے کسی ؟ سی زمانہ میں جوتا ہوں کا کام کا کام کیا کرتے تھے۔ انہوں نے تورک خواب دیکھا کہ تانی کو خشک کرنے کے لئے ایک کیلے کے ساتھ باندھا اور دوسری طرف دوسرے کیلے سے باندھنے گیا لیکن تانی کیلئے سے دو انگل کے قریب کم رہ گئی لیکن کیلا کچھ دور تھا وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ہزار کوشش کی کہ کسی طرح تانی کیلئے تک پہنچ جائے۔ مگر اب بے سود آخر گھبرا کر میں نے رشتہ داروں کو کو آواز دی کہ دوڑ کر آؤ ، دو انگل کی وجہ سے میری تافی خراب ہو جاتے ائے گی اس پر آنکھ کھل گئی اور سمجھ آگئی کہ چند منٹ آگے پیچھے روزہ رکھنے یا انظار رہ رکھنے یا انظار کرنے کے متعلق مکن کے متعلق میں جو کچھے بیان کر رہا تھا اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے متعلق آگاہ کیا ہے ۔ تو بعض باتیں بظاہر چھوٹی ہوتی ہیں لیکن بلحاظ انت سنج نہایت اہم ہوتی ہیں ۔ اہم ہوتی ہیں ۔ انہی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اوقات کے لحاظ سے عبید الفطرانہ عید الاضحیٰ میں فرق کیا ہے ہے وہ دیر سے پڑھائی جاتی ہے اور یہ جلدی کیونکہ اس کے متعلق حکم ہے کہ نماز کے بعد قربانی کی جائے، اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا اپنا دستور یہ تھا کہ آپ قربانی کے گوشت سے ہی کھانا شروع فرماتے کلیہ اس دن روزہ تو نہیں ہوتا تھا لیکن نیم روزہ ضرور ہو جاتا تھا آپ صبح کچھ نہیں کھاتے کتنے اور پھر قربانی کے گوشت سے افطار کرتے توحید الاضحیٰ کی نماز جلد ادا کی جاتی۔ لیکن میں دیکھتا ہوں ہماری جماعت میں اس حکم کے متعلق بہت کم توجہ ہے کمزوروں کا لحاظ کرنے کی وجہ سے کے مت گویا یہ ایک قاعدہ بن گیا ہے کہ عید کی نماز ایسے وقت پر ہو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طریق کے مطابق نہیں ۔ اس میں شبہ نہیں کہ یہ باتیں معمولی ہیں اور جماعت کی تربیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسے امور میں ڈھیل دی جا سکتی ہے لیکن اس کا بھی ایک وقت اور ایک حمد ہونی چاہئیے ۔ ہماری جماعت کی عمر ۲۲ سال ہو گئی ہے اور متوا نر بلاناغہ یہ ڈھیل چلی آتی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں اس وقت تک یہاں ایک نماز بھی اس وقت پر نہیں ہوئی ہوگی جو احادیث میں آتا ہے ۔ آج ساڑھے آٹھ بجے کا وقت مقرر تھا مگرہ بجے نماز پڑھائی گئی ۔ اور اب کہ میں خطبہ پڑھا رہا ہوں بلکہ خطبہ کا بھی ایک حصہ بیان کر چکا ہوں نہ صرف عورتیں ملکہ مرد بھی نماز پڑھنے کے لئے چلے آرہے ہیں اس اندازہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ، انبجے وقت ہوا اور دس پنجے سورج وسط کے قریب قریب پہنچ جاتا ہے۔ حالانکہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب سورج نیزہ بھر اونچا ہوتا تو عید الاضحی کی نماز ادا کی جاتی ہے اور اس لحاظ سے اگر سوا چھ بجے سورج کا طلوع ہو تو نماز سات بجے تک ہو جانی چاہیئے۔ لیکن پرانی عادت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے نو بجے پڑھی اور اب بھی بعض لوگ عید پڑھنے کی خواہش سے برابر چلے آ رہے ہیں ۔