خطبات محمود (جلد 2) — Page 142
۱۴۲ ۲۰ فرموده ها را پریل ۱۹۳۶ بمقام باغ حضرت مسیح موعود علیہ السلام قادیا) گلے کی خرابی اور بعض دیگر تکالیف کے باعث میں زیادہ دیر نہیں بول سکتا اور اسی طرح اونچی آواز سے بھی نہیں بول سکتا۔ لیکن عید کا خطبہ چونکہ عبادت کا ایک جزو ہے ہے اس وقت بولٹ بھی ضروری ہے ۔ اس لئے میں اختصار کے ساتھ دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ شریعت کے بعض احکام بظاہر تھوے ہوتے ہیں لیکن ان کے اندر بڑی حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایک شخص اس بات پر مجھ سے گفتگو کر رہا تھا کہ داڑھی رکھنا ضروری ہے یا نہیں مختلف دلائل سننے کے بعد اس نے کہا۔ میں نہیں سمجھ سکتا روحانیت کی بنیاد چند بالوں کے رکھنے یا نہ رکھنے پر کیونکر ہو سکتی ہے۔ بظاہر یہ نہایت ہی دھوکہ دینے والا فقرہ تھا۔ ہم اس وقت علیحدہ گفتگو کر رہے تھے۔ ممکن ہے اگر مجلس میں یہ کہا جاتا ۔ تو بعض کو اس سے ٹھو کر بھی لگتی ۔ میں نے اس وقت اسی رنگ میں ایک ہی فقرہ میں اسے جواب دیا۔ میں نے کہا میں سلیم کرتا ہوں کہ روحانیت کی بنیاد چند بالوں کے رکھنے یا نہ رکھنے پر نہیں لیکن روحانیت کی بنیاد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت پر ضرور ہے جس سے میرا مطلب یہ تھا کہ داڑھی کا تعلق براہ راست روحانیت سے بے شک نہیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت کا تعلق براہ راست روحانیت سے ہے اور جب آپ کا ارشاد ہے کہ داڑھی رکھوگے تو گو داڑھی اپنی ذات میں روحانیت کا موجب نہ ہو لیکن جب آپ کا حکم توڑا جائیگا تو یقینا ایسا انسان کردیا سے محروم ہو جائے گا۔ اگر ۔ اس اس اعتراض ا کا میں تفصیلاً جواب دوں وں تو تو معلوم م ہوگا ہو۔ کہ یہ نہایت ہی ودا ہے لیکن میں نے صرف یہاں اسے بطور مثال پیش کیا ہے کہ بعض چھوٹی باتیں بڑے اثرات پیدا کرتی ہیں۔ نمازوں میں صفوں کی درستی بظاہر معمولی بات ہے اور یہ کوئی اہم بات نظر نہیں آتی کہ ایک آدمی کچھ آگے کھڑا ہو جائے یا کچھ پیچھے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ صفوں کو درست کرو وگرنہ تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے تے بات کتنی معمولی تھی لیکن نتیجه کلیسا عظیم الشان نکلا ۔ مجھے اس کے متعلق ایک واقعہ یاد آیا۔ حضر یاد آیا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے زمانہ میں کے کچھ لوگوں میں روزوں کے متعلق بحث ہو رہی تھی کہ کس وقت روزہ رکھنا اور کس وقت افطار کرنا چاہیے۔ ایک شخص کا خیال تھا کہ جب ایک شخص خدا تعالے کے لئے سارا دن بھوکا رہتا ہے تو اگر اس نے