خطبات محمود (جلد 2) — Page 140
۱۴۰ پیچھے دیکھا اور بے اختیار پکار اُٹھا ، آپ کے پیچھے کی دیوار بیچتی ہے ۔ اور انہوں نے کہا۔ تمہارے پیچھے بھی کی ہے اور ہم بڑے خوش ہو گئے تو خطرات کے موقع پر آپس میں تعاون کرنا بہت خیر و برکت کا موجب ہوا کرتا ہے ۔ جب تم اپنے بھائی کو اس وقت جبکہ اس کی عقل ماری جائے نصیحت نہیں کرتے تو تم پر ایسا وقت آنے پر وہ بھی نہیں کرے گا۔ اور اگر تم اسے بُری راہ پر لگانے کی کوشش کرتے ہو تو وہ بھی ایسا ہی کرے گا جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ دونوں تباہ ہو جاؤ گے پس جب تمہارے کسی بھائی پر ایسی مصیبت آتے کہ وہ اپنا انتہائی حق مانگنے پر مصر ہو ، کسی احمدی سے یہ تو امید بھی نہیں کی جا سکتی کہ وہ حق کے سوا بھی کچھ مانگے لیکن جب وہ اپنا حق لینے پر مصر ہو تو اسے سمجھاؤ کہ وہ تفرقہ سے بچنے کے ا لئے قربانی کرے تا تم پر اگر ایسی حال حالت آئے تو تمہارا دوست یہ سوچ کر کہ اس نے مجھے جنت کا راستہ دکھایا تھا میں بھی اسے دکھاؤں تمہاری مدد کو آئے۔ اور کسے مجھ پر بھی ایک وقت ایسا آیا تھا جیسا اب تم پر ہے اس وقت تم نے میری دستگیری کی تھی اور صحیح راستہ دکھایا تھا اب تم پر رہی مصیبت ہے اس لئے میں تمھیں بھی صیحت کرتا ہوں کہ بھائی کی رعایت کرو۔ یہی وہ ذریعہ ہے جس سے قربانی کی روح پیدا ہو سکتی ہے ۔ پس یا د رکھو کہ حقیقی ترقی کی راہ یہی ہے کہ بھائی کو مصیبت کے وقت قربانی کی تلقین کرو۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں ایسا کرنے کی توفیق دے۔ حقیقی تربانی وہی ہے جو تقوی اللہ کی وجہ سے کی جائے اور جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور باہمی اتحاد کے لئے ہو ۔ اللہ تعالٰی ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ تا وہ مقام جو ایک طرف اس سے ملاتا ہے اور دوسری طرف تمام دنیا کو بھائی بھائی بناتا ہے، ہمیں حاصل ہو جائے ۔ والفضل و ارمنی ۱۹ مهنام ۱۸۶ گولٹری - ملفوظات جلد هم منشا های ہے ۔ روحانی خزائن جلد ، ار ضمیمه تحفہ گولڑا دیم ۔ ہے ۔ تذکرہ طبع سوم ماه و مشوه حاشیه سے ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج نہ جس کی فطرت نیک ہے آئیگا وہ انجام کار را براہین احمدیہ حصہ نجم ندا ہے۔ مسٹر سی انڈریا سا جو سماٹا میں ڈچ آفیسر تھے، جڈ میں ڈرح قونصل مقرر ہو تو وہاں جاتے ہوئے وہ ایریل نائٹ کو قادین بھی تشریف لیگئے و الفضل مه را پریل - ۹ مینی دام شه - علم الامراض " مصنفہ میرا شرف علی صال ہے ۔ صحیح اسلام ۳۰ مطبوعہ لاہور سا ۱۹۵ شه - جامع ترمذی ابواب البيوع باب ما جاء في ترك الشبهات شه - سنن دارمی الجزء الثانی ۳۳ مطبوعہ دمشق ۱۳۳۹ -