خطبات محمود (جلد 2) — Page 139
۱۳۹ ہے جس کے کنارے مویشی پیرانا خطرہ سے خالی نہیں ہوتا۔اسی طرح اللہ تعالے کی بھی کچھ رکھیں ہیں ان کی حدود پر نہ جاؤ ملکہ پرے پرے ہو۔کیونکہ۔کھ کے آخر سرے پر پہنچکر احتمال ہوتا ہے کہ اس کی حدود میں بھی گھس جاؤ۔اس لئے اس سے پرے پرے رہو تا تفرقہ کی صورت پیدا نہ ہو۔دنیا میں بھی قبا میر امن کا یہی طریق سمجھا جاتا ہے کہ سرحدوں پر فوجیں رکھنے کی بجائے دور رکھی جاتی میں پسی انتہائی درجہ کے حقوق کا مطالبہ ضرور تباہ کر دیا ہے۔اس لئے اگر تم قربانی کرتے ہو تو انتہائی حقوق حاصل کرنے کے لئے کبھی اصرار نہ کہ وہ اپنا حق ثابت ضرور کر دو اور پھر اصرار نہ کرو بلکہ عفو سے کام لو۔یہ بات پوری طرح واضح کر دو کہ یہ ہمارا حق ہے لیکن تفرقہ سے بچنے کے لئے ہم اسے چھوڑتے ہیں۔انتہائی حقوق کا مطالبہ کر کے کئی ایک نے دیکھا ہوگا کہ تفرقہ بڑھا۔اب یہ تجربہ کر کے بھی دیکھ لو کہ اپنا حق ثابت کر نیکے بعد اسے چھوڑ دو۔پھر دیکھو باہمی اتحاد ترقی کرتا ہے یا نہیں اور جس طرح ایک بڑھیا پر دوبارہ جوانی آجائے اسی طرح تمہاری حالت میں نئی تبدیلی نظر آئے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے۔دوزخ میں انسان جبل کو کوئلہ کی طرح ہو جائے گا۔پھر خدا تعالیٰ کی رحمت کے پانی کا چھینٹا اس پر پڑے گا اور نئی روئیدگی اس کے اندر پیدا ہو جائے گی شیہ یہی حالت انسانی روح کی ہے جب وہ خدا تعالے کے لئے قربانی کرتا ہے تو اس کے عضو کا پانی اسے شاداب کر دیتا ہے اور اس کے اندر ایک نئی زندگی پیدا ہو جاتی ہے۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس بات کا تجربہ کریں کہ اپنا حق ثابت کرنے کے بعد عفو اور درگزر سے کام لیں۔جس شخص کا حق ہوا سے چونکہ سوچنے سمجھنے کا کم موقع ملتا ہے اس لئے اس کے دوستوں کا فرض ہے کہ اس وقت اسے سمجھائیں۔جو دوست اسے نہیں سمجھاتا بس القرين ہے دوست کا فرض یہی ہے کہ جب اس کے دوست کی عقل ماری جائے تو اس کے کان میں ایسی بات ڈالے جو اس کے لئے برکت کا موجب ہو تا جب اس پر بھی کوئی ایسا موقعہ آئے کہ اس کی عقل ٹھکانے نہ رہے تو اسے بھی وہ آکر بھلائی کی بات سمجھائے۔عرصہ ہوا میں نے ایک رؤیا دیکھا تھا کہ قیامت کا دن ہے اور ہم سب اللہ کے حضور پیش ہیں اس کے بہت سے نظارے تھے مگر میں تفصیلاً بیان نہیں کرتا۔میں نے دیکھا کہ خدا تعالے کی طرف سے حکم ہوا ہے کہ اپنی پیٹھوں کی طرف دیکھو جس کے پیچھے دیو آکچی ہوگی وہ دوزخی ہے اور جس کے پیچھے بھی وہ جنتی۔یہ شنکر ہم سب پر اس قدر ہیبت طاری ہوئی کہ بہت عرصہ تک سب چپ چاپ بیٹھے رہے اور کوئی بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھتا تھا۔میرے پاس حضرت خلیفہ اسبح الاول بیٹھے تھے۔انہوں نے مجھے کہا: تم میرے پیچھے دیکھو اور میں تمہارے پیچھے دیکھتا ہوں۔اس پر میں نے اُنکے