خطبات محمود (جلد 2) — Page 134
۱۳ リ ان کے دل ہماری طرف سے خطرات سے اس قدر پر ہیں کہ با وجود متواتر ناکامیوں کے باز نہیں آتے ۔ ذلت کے بعد ذلت، رسوائی کے بعد رسوائی، شکست کے بعد دعست اور ہنر میت کے بعد برییت اٹھاتے ہیں حتی کہ خود ان کے ہم خیال ان کے طریق کار کی تدقیت کرتے اور انہیں سمجھاتے ہیں کہ اس قسم کی شرارت اور دنایت قومی مفاد کے منافی اور اسلامی تعلیم کے مخالف ہے۔ مگر بایں ہمہ وہ باز نہیں آتے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان ان کو کو ہر ہر میدان سید میں بنا دیا ہے ہے کہ کہ جول جو لوگ ، اس اس کی کی مدد مدد اور اور نصرت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، انہیں تباہ کرنا کسی او انسان کا کامہ کا کام نہیں اور احمدیت اسی طرح قائم کی گئی ہے بلکہ ہر نبوت اور ماموریت اس طرح قائم کی جاتی ہے جس طرح اسماعیلی درخت کو خدا تعالے نئے مکہ کی سرزمین میں لگایا تھا۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ کوئی صداقت اور راستبازی ایسے حالات میں کبھی دنیا میں نہیں آتی کہ اس کے نشو و نما پانے کے لئے میدان خالی ہو ۔ صداقت ہمیشہ اسی است آتی ہے جب اس کے پہنچنے اور نشو و نما پانے کے لئے میدان خالی نہیں ہوتا۔ صداقت کا بیج خدا تعالے لئے اپنے ہاتھ سے ویران مقام پر ان مقام یہ ڈالتا ہے تا وہ تا وہ دوسرے بڑے درختوں کے سایہ سے محفوظ رہ کر ترقی کر سکے ۔ اور اس وجہ سے انبیاء کی جماعتیں الگ قائم کی جاتی ہیں ۔ نادان خیال کرتے ہیں کہ خلال مدعی نبوت نے آکر لوگوں میں شقاق اور تفرقہ ڈال دیا۔ باپ کو بیٹے سے ، بھائی کو بھائی سے جدا کر دیا ۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایک ہوشیار ہانی نئے پودے کو ہمیشہ الگ لگاتا ہے ۔ دنیا میں کوئی ایسا بیوہ قوت مالی نہیں ہو گا جو کسی نئے اور قیمتی پودے کو کسی بڑے درخت کی جڑ کے پاس لگا دے کیونکہ وہ جانتا ہے اس طرح پور اضائع ہو جائے گا ۔ وہ ہمیشہ اسے ایسی جگہ لگائے گا ۔ جہاں طاقت پکر سکے اور جہاں اسے اسے پوری نوری غذا مل سکے۔ اور اگر اور اگر نئی جماعتوں کا الگ قائم کرنا الگ قائم کرنا بری چیز ہے تو اس کی بنیاد نمایاں طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نام نے رکھی جنہوں نے اپنے بیٹے کو تمام رشتہ دا رشتہ داروں ، عزیز و اقارب اور ملک د وطن سے علیحدہ کر کے وادی غیر ذی ورع میں چھوڑ دیا ۔ کیا اس کے یہ معنے لئے جائیں گے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام عرب و شام اور عبرانیوں و شامیوں میں جدائی ڈال کر شقاق پیدا کرنا چاہتے تھے بانہیں ہرگز نہیں ، وہ جانتے تھے کہ اس ہونہار پودے کے نشو و نما اور ارتقاد کے لئے دادی غیر ذی زرع ہی کی ضرورت ہے ۔ خدا تعالیٰ کی مشیت یہی تھی کہ حضرت اسحق علیہ السلام کو اور دور پر میں جائے کو پہلے ترقی دی جائے اور اسماعیلی پودا ایک دور مقام پر چھوٹی حالت میں رکھا جائے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ چھوٹے پورے بڑے درخت کے زیر سایہ نہیں بڑھ سکتے اور ہمیشہ ضائع ہو جایا کرتے ہیں ۔ اور چونکہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولاد کو بعد میں خدا تعالے نے ترقی دینی تھی ، اس لئے اس کا پودا ایک سنسان جگہ میں لگایا ۔ حضرت اسحاق علیہ السّلام کی اولاد نے ترقی کی میگو اسے کبھی یہ خیال بھی نہ آیا کہ مکہ فتح کرے کیونکہ وہ لوگ جانتے تھے اسے فتح کرنا کسی فائدہ کا موجب