خطبات محمود (جلد 2) — Page 130
یہ حضرت اسحاق علیہ السلام والی قربانی ہے۔اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کلی طور پر اپنے آپ کو خدمت میں لگا دیا۔اور اس کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیا ہے۔جب تک کسی قوم میں دونوں قسم کی قربانیاں کرنے والے نہ ہوں۔وہ قوم کا میاب نہیں ہو سکتی۔اس میں شک نہیں کہ اگر سارے کے سارے افراد کلی طور پر خدمت دین میں لگ جائیں اور دنیوی کام چھوڑ دیں تو یہ سوال پیدا ہوگا کہ دین کی مالی ضرورتیں کس طرح پوری ہوں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالے کا یہ نشاء نہیں کہ تمام کے تمام لوگ سب کاموں کو چھوڑ کر خدمت دین میں لگ جائیں۔دین کی خدمت کے لئے مال کی بھی ضرورت ہوتی ہے ، اگر مال نہ ہو تو کام چل نہیں سکتا۔لیکن اگر قوم کے سارے کے سارے افراد مبلغ بن جائیں اور اپنا سارا وقت تبلیغ دین میں صرف کریں تو ٹریکٹ اور کتا بیں کس طرح شائع ہوئی۔ان کے لئے اخراجات کہاں سے آئیں۔بات یہ ہے کہ دین کے بعض کام ایسے ہیں جن کے لئے مالی کی ضرورت ہے، رعب کی ضرورت ہے۔جتھہ اور دبدبہ کی ضرورت ہے اور یہ باتیں دنیوی کاموں سے حاصل ہوتی ہیں۔پس جماعت کا ایک حصہ اور بڑا حصہ ایسا ہونا ضروری ہے جو دنیوی مال کمائے اور اس میں سے دین کے لئے خرچ کرے۔ایک حصہ اور ہو اور وہ تھوڑا حصہ ہو جو دین کے لئے وقف ہو۔یہی کام دن رات کرے اور اسی میں لگا رہے۔جماعت کو دشمنوں کے جوڑ توڑ سے واقف کرتا رہے ، ان کے مقابلے میں مصروف رہے۔یہ دو سلسلے ہیں جن سے مل کر کامیابی حاصل ہوتی ہے۔اسی کی بنیا د حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ڈالی اور اسی کی یاد کے لئے یہ عید ہے۔بہت لوگ کہتے ہیں قربانی کی کیا ضرورت ہے۔جان صنائع کرنے سے کیا فائدہ ؟ حالانکہ قربانی کرنا بھی مشتق چاہتا ہے کوئی کام بغیر مشق کے نہیں ہو سکتا۔مجھے خوب یاد ہے بچپن میں سنجار ہمارے گھر کام پر لگے ہوئے تھے جب ہم سکول سے پڑھ کر آتے تو وہ اپنے اوزاری کو ہاتھ نہ لگانے دیتے۔ایک دن ایک نتیار اپنے اوزار یوں ہی چھوڑ کر چلا گیا، اس لئے مجھے موقعہ مل گیا۔میں اور دوسرے ساتھ کھیلنے والے لڑکے بہت خوش ہوئے۔میں نے تیشہ پکڑ کر ایک ہی ضرب لگائی کہ وہ میرے ہاتھ کے انگوٹھے پر لگی جس کا اب بھی نشان ہے۔تو بغیر مشق معمولی ضرب بھی نہیں لگائی جاسکتی۔حالانکہ ہم انہیں ہمیشہ چلاتے دیکھ کر سمجھا کرتے ان سے اچھا ہم چلا لیں گے۔چونکہ انسان کو ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ خدا کی یاد میں جان کی قربانی کرنے کے لئے تیار رہے۔اور جب تک ظاہری قربانی نہ ہو یہ ہو نہیں سکتا جب تک نتون بہانے کی مشق نہ ہو جان دینے کے لئے انسان تیار نہیں ہو سکتا۔پھل اور سبزیاں کھانے والے بہادری کے ساتھ خون بہانے کے لئے کبھی تیار نہ ہوں گے۔کہا جائے گا کہ گائے کے لئے ہندو