خطبات محمود (جلد 2) — Page 129
حکم دیا اور پھر اسے بدار دیا، پیسے نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ اسلامہ کو رڈیا میں دکھایا گیا کہ وہ بچہ کہ بج کر رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ تھا کہ سمجہ کو ایک وادی غیر ذی زرع میں چھوڑ آئیں۔تاکہ وہ کھلی طور پر خدمت میں لگ جائے گویا دنیوی لحاظ سے اسے قربان کر دیا گیا۔یہ ایک شنگیر کی تھی جو رویا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دکھائی گئی۔مگر حضرت ابراہیم نے نہ نور محبت میں بیٹے کو خدا کے لئے ذبح کرنا چاہا یعنی اپنی قوم کے۔راج کے ماتحت جو خد انتقالی کا قائم کردہ نہ تھا بلکہ لوگوں کا اپنا بنایا ہوا تھا بیٹے کو قربان کرنا چاہا۔خدا تعالے ان کے اخلاص اور محبت کو دیکھکر اور بھی ان پر خوش ہوا اور کہا : اے ابراہیم ، جس طرح تو ظا ہری قربانی کرنے کے لئے تیار ہو گیا ہے، میں ظاہری لحاظ سے بھی اسے بچاؤں گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ خدا تعالے نے اس وادی غیر ذی زرع میں رزق پہنچانے کے ایسے سامان پیدا کر دیتے کہ وہاں کے رہنے والے رزق کی وجہ سے ہلاک نہ ہوں۔- پھر جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ عظیم الشان کام کسی اور کے سپرد نہ کیا تھا اور یہ نہیں کہا تھا کہ میں اپنے بیٹے کا ذبح ہونا دیکھ نہیں سکتا۔کوئی زید یا سکہ چھری چلانے دے۔بلکہ خود چھری چلانے کے لئے تیار ہو گئے تھے۔اسی طرح خدا تعالے نے ان کے بچے کو بچانے کے لئے بھی انہیں کسی انسان کا ممنون نہیں بنایا بلکہ اس کے لئے خود چشمہ پھوڑا جن سے اس سچہ نے پانی پیا۔اس طرح کسی انسان کی مدد اور دستگیری سے اُسے بچا لیا۔یہ ایک زبرد نشان ہے اس بات کا کہ قوم کے بعض افراد کو خدمت دین کے لئے اپنی زندگی وقف کر دینی چاہیے۔گو یا ظاہری طور پر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دینا چاہیئے تاکہ دوسرے ہلاکت سے بچ جائیں یہ نشان ہے جو خدا تعالے نے اس رویا سے قائم کیا۔ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہیئے۔کہ کوئی سلسلہ اور کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی جب تک اس کے افراد کلی طور پر اپنے آپ کو قربان کرنے کے لئے تیار نہ ہوں اور بعض جزوی طور پر قربانی نہ کریں۔کئی طور پر تو اس طرح کہ اپنے تمام اوقات خدمت دین میں صرف کریں اور جزوی طور پر اس طرح کہ کچھ اوقات دین کے لئے خرچ کریں اور کچھ دنیا کمانے کے لئے خرچ کریں۔چنانچہ قرآن کریم سے یہ دونوں قسم کی قربانیاں معلوم ہوتی ہیں۔حضرت آنفیل علیہ السلام والی قربانی بھی اور حضرت اسحاق علیہ السلام والی قربانی بھی۔حضرت اسمعیل کی کھلی طور پر قربانی کی گئی کہ کلی طور پر خدمت دین کے لئے وقف کر دیئے گئے اور حضرت اسحق کو اپنے ملک میں رہنے دیا گیا تا کہ کاروبار احمق کریں اور کچھ حصہ دین کی خدمت میں لگائیں۔جزوی قربانی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ " ہر ایک مومن اپنے اموال میں سے کچھ دین کے لئے خرچ کرنے