خطبات محمود (جلد 2) — Page 121
دیتا ہے مگر اس کا منشاء وہ نہیں ہوتا۔اور خدا تعالے جیسی تحکیم ہستی کے تعلق یہ خیال کرنا کہ وہ ایک ایسا حکم دے جس کے متعلق وہ خود جانتا ہو کہ اسے پورا نہیں کراؤں گا منشاء احکام خداوندی کے خلاف ہے۔در اصل بات یہ تھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بہشت کے ابتدائی ایام میں جب نین دنیا سے مست چکا تھا اس وقت افسانی قوربانی ہوتی تھی۔اور انبیاء کا یہ طریق ہے کہ جب تک کسی امر کے متعلق خدا تعالے کی طرف سے حکم نہ آئے وہ قومی دستور کو جاری رکھتے ہیں اور چونکہ اس دفت کثرت انسانی قربانی ہوتی تھی اس لئے آپ نے اپنی۔ڈیا کا یہی مفہوم سمجھا کہ اسمعیل کو ذبح کر کے قربان کرنا چاہیئے۔مگر منشاء الہی یہ نہ تھا بلکہ کچھ اور تھا۔اور وہ یہ کہ آپ ان کو ایک دن ایک ایسی جگہ چھوڑ آئیں گے جہاں چھو ڑنا موت کے منہ میں دینے کے برابرہ ہو گا۔چنانچہ حضرت ابراہیم کا یہ خواب اس وقت پو ر ا جب وہ حضرت اسمعیل اور ان کی والدہ کہ اس جگہ چھوڑ آئے جہاں مکہ آباد ہوا۔اور جہاں آج لوگ اس واقعہ کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔یہ حضرت ابراہیم کے خواب کا اصل منشاء تھا اور یہ حضرت انجیل علیہ السلام کو ذبح کرنا تھا کہ انہیں ایسی جگہ چھوڑ آئے جہاں ایک مشکیزہ پانی اور تھوڑی سی کھجوروں کے سوا کھانے پینے کا کوئی سامان نہ تھا۔کئی کئی میل تک کوئی آبادی نہ تھی۔ایسی حالت میں چھوڑ آنا سو فیصدی موت کے منہ میں پھینک آنا تھا۔کون کہ سکتا تھا کہ تھوڑا سا کھانا اور پانی ختم ہونے پر کچھ اور میسر آسکے گا۔پس حضرت ابراهیم علیہ السلام نے انہیں ذبح کرنے میں کوئی دریغ نہیں کیا۔یہ علیحدہ بات ہے کہ خدا نے انہیں پھر زندہ کر دیا۔واقعہ اس طرح ہوا کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فیصلہ کر لیا کہ حضرت مغیل اور ان کی والدہ کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑ آئیں تو وہ ایک مشکیزہ پانی کا اور کچھ کھجوریں ساتھ لے کر حضرت اسمعیل اور ان کی والدہ کو خدا کے حکم کے ماتحت وہاں چھوڑ گئے لیکن محبت پڑی اور خاوند بیوی کی محبت تو نہیں چھوڑی جا سکتی تھی۔جب آپ واپس چلے تو مڑ مڑ کر پیچھے دیکھتے جاتے تھے۔کیونکہ آپ بخوبی جانتے تھے کہ اس پانی اور ان کھجوروں کے ختم ہونے کے بعد ان کی بیوی اور ان کے بچہ کے لئے کھانے پینے کا کوئی سامان نہ ہو گا۔حضرت ہاجرہ نے جب یہ دیکھا۔تو خیال کیا ضرور کوئی بات ہے انہوں نے پوچھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں اور ہمیں کہاں چھورے جاتے ہیں۔چونکہ یہ ایک دردناک موقعہ تھا ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے منہ سے بات نہ نکل سکی اور آپ نے تیز تیز چلنا شروع کیا۔آخر حضرت ہاجرہ نے دریافت کیا آپ ہمیں نہاں کس کے حکم سے چھوڑے جاتے ہیں ، تب انہوں نے کہا۔خدا تعالے کے حکم سے۔اس پر حضرت ہاجرہ نے کہا۔اگر خدا کے حکم سے چھوڑے جاتے ہیں تو وہ تمہیں منا ئع نہیں کرے گا اور خدا تعالے کی راہ