خطبات محمود (جلد 2) — Page 120
الم پہلے کئی دفعہ بیان کیا ہے۔ میرے نزدیک حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام کا یہ فعل کہ انہوں نے اپنے بچے کو چھری لے کر ذبح کرنا چاہا ، یہ عید در حقیقت اس کی یاد گار نہیں ہے۔ اگر یہ اس کی یادگار ہوتی تو یہ واقعہ چونکہ شام کا م کا ہے اس کی یادگار کے طور پر حج شام میں پر حج شام میں ہوتا کیسی فعل کی یادگار قائم رکھنے کا بہترین ذریعہ نہیں ہوتا ہے کہ اس جگہ جہاں واقعہ ہوا ہو یادگار بنائی جائے باقی علاقوں میں بھی بے شک ہو مگر اصل اور بڑا مقام وہی ہو جہاں واقعہ ہوا ہے۔ پس اگر یہ عید اس عملی طور پر چھری پھیرنے کے لیے تیار ہو جانے کے نتیجہ میں ہوتی جو حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام نے اپنے بچہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کی گردن پر شام کے علاقہ میں رکھی تھی تو اس عید کا اصل مقام اورج کا مقام شام ہوتا نہ کہ حجاز ۔ لوگ اکنان عالم سے وہاں جمع ہو تھے اور اس اور اس جگہ جہاں یہ واقعہ ہوا تھا اکٹھے ہو کر خدا کی یاد کرتے اور کہتے ابراہیم عليه الصلوة و السلام نے کس قدر عظیم الشان قربانی کی۔ لیکن خدا تعالے نے حج کے لئے مکہ لے اسلام سے قرار دیا نہ ملی ہے کو قرار دیا۔ مزدلفہ اور عرفات کو قرار دیا۔ لیکن شام کے کسی مقام کو قرار نہیں دیا۔ پس میرے نزدیک اس کا تعلق اس قربانی سے نہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی گردن پر عملی طور پر چھری پھیر نے پر آمادگی سے کی۔ پھر چھری پھیر نے کے لئے بیٹھ جانا۔ اور چھری پھیر دنیا ان دونوں باتوں میں بھی بڑا فرق ہے جس وقت تک انسان عملی قربانی کر نہیں دیتا اس کے دل کا حال اور ہوتا ہے ۔ ممکن ہے آج بھی کوئی انسان اپنے بیٹے کی گردن پر چھری پھیرنے کے لئے آمادہ ہو۔ اور چھری پھیرنے کے لئے اسے لٹا بھی دے۔ پھر چھری اس کی گردن تک بھی لے جائے ۔ مگر ممکن ہے اس کا ہاتھ کانپ جائے اور وہ رو کر بہٹ جائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چھری لی ، حضرت اسمعیل علیہ السلام کو لٹایا مگر الہام ہوا کہ تیرا خواب پورا ہو گیا، جانے دے ۔ چونکہ آپ ۔ آپ نے چھری پھیری نہ پھیری نہیں اس لئے اس لئے اس مقام کو عملی قربانی کے مقام سے نسبت نہیں ہو سکتی ۔ پس جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بیان کیا ہے ۔ اس عید اور رڈیا کا تعلق اس واقعہ سے نہیں بلکہ اس سے ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو ایسی دادی غیر ذی زرع میں پھینک دیا ہے جہاں نہ پانی ہے نہ کھانا اور چھری پھیرنے سے مراد ایسی وادی غیر ذی زرع میں ہی پھینکنا ہے ۔ ان کی رؤیا کے یہی معنی تھے۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام خدا تعالے کی محبت کے جوش میں واقعی پھری پھیرنے پر آمادہ ہو گئے ۔ اگر خدا تعالیٰ کے ارشاد ارشاد کا یہ مطلب ہوتا کہ چھری پھیر وا روک دیتا تو اس کے تو یہ معنے ہوتے کہ وہ خود ہی اپنے حکم کی نافرمانی سکھاتا ہے وہ ایک کام کا حکم ری پھیرو اور پھر