خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 112

١١٢ ۱۵ ا فرموده ارجون ۱۹۲۶ بمقام باغ حضرت مسیح موعود علی السلام قادیا آج کچھ آواز قدرتاً نیچی ہے کیونکہ طبیعت اچھی نہیں اور کچھ لوگوں کی آواز اونچی ہے تک آواز پہنچا ا مجمع میں عورتوں اور بچوں کا شور تھا کا شور تھا ، اس لئے نہیں کہہ سکتا کہ سب دوستوں تک آواز پهر سکوں گا یا نہیں لیکن چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے کہ عید کی نماز کے بعد خطبہ پڑھا جائے ، اس لئے اس سنت کی اتباع میں مجھے خطبہ پڑھنا چاہیئے خواہ آواز سب تک پہنچے یا نہ پہنچے۔ ४४ آج کا دن اپنے اندر ایک خصوصیت رکھتا ہے۔ یہ دن یادگار ہے ایک نئے دور کی جو دنیا پر آیا ۔ یہ دن یاد گار ہے ایک نئے دور کی جس نے پہلے دور کو ختم کر دیا۔ یہ دن یاد گار ہے یادگار ایک نئے آدم کی جس نے نئی قسم کی نسل جاری کی۔ یہ دن یاد گا رہے اس آدم کی جس کے ذریعہ اہلی صلاح کا کام شروع ہوا ۔ کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دوراہلی اصلاح کا دور ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دو بڑی خصوصیتیں حاصل ہیں۔ ایک یہ ہے کہ ان کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے اس حاصل نہیں۔ جماعت کا نام رکھا جس کے سپرد آخری اصلاح دنیا کی رکھی گئی ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام السلام کو کو اللہ تعالیٰ لئے نے نئے اسلام کی بشارت کے لئے کچنا اور ان کے ذریعہ بتایا کہ آئندہ اسلام کا دور ہو گا ئیے اس طرح ایک تو خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ذاتی قربانی کے لئے ۔ چنا اور دوسری یہ خصوصیت ان کے لے لئے مقدر فرمائی کہ ان کو کو اہلی اہلی قربانی قربانی کے لئے چنا ۔ ان کو رویا میں دکھایا گیا کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کرتے ہیں اور اکلوتے بیٹے کو ذبح کر کے خدا تعالے کی رضا ما اور خوشنودی حاصل کرتے ہیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس نے اس رڈیا کو عملاً پورا کرنا چاہا کیونکہ اس زمانہ میں انسانوں کی قربانی عام تھی۔ اور جب تک نہی کوئی خاص حکم نہیں پاتا ۔ اس وقت تک عام مروجہ باتوں کو ہی قبول کرتا ہے۔ چونکہ مذہب کے نام پر اس وقت تمام کے تمام مذاہب انسانی قربانی کے عادی تھے اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سمجھاکہ اللہ تعالٰے اس قربانی کو تا ئم کرنا چاہتا ہے اور مجھ سے بھی بہی چاہتا ہے۔ اس وجہ سے انہوں نے یہ نظر اندا نہ کر دیا کہ 40 سال کی عمر میں ان کو بیٹیا ملا تھائیے انہوں نے چاہا کہ اس بیٹے کو بھی خدا کی رضا کے لئے قربان کر دیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ انہیں اور سبق دینا چاہتا تھا اور وہ عظیم الشان سبق تھا جس کے نہ سمجھنے کی وجہ سے اب بھی مسلمان تباہ ہو رہے ہیں۔ لوگ اٹھتے