خطبات محمود (جلد 2) — Page 109
ہر سال یہ عید کا دن آتا ہے۔ اگر ہم اس بات کو مد نظر رکھیں کہ یہ دن ہمیں اپنی قربانیوں کا اپنی عورتوں کی قربانیوں کا اور اپنے بچوں کی قربانیوں کا سبق سکھاتا ہے تو یہ دن ہمارے لئے ایسا ہی ہو گا جیسے اور دن ۔ پس ہمیں اس سبق کو جو ان قربانیوں سے ملنا ہے اور جس کی یاد کے لئے یہ دن ہر سال ہم پہ آتا ہے ، ہر وقت یا د رکھنا چاہیئے ۔ بعض لوگ خود تو قربانی کرتے ہیں مگر اپنے بیوی بچوں کی قربانیاں نہیں کر سکتے ۔ حضرت صاحب کے ایک مرید تھے جو بڑی قربانیاں کرتے رہتے تھے لیکن ایک دفعہ ان کی بیوی سے کوئی حرکت سرزد ہوئی ، حضرت صاحب اس پر ناراض ہوئے تو اس شخص نے کہا کہ میں تو قادیان چھوڑ دوں گا ۔ اب اس سے بالکل ہی قادیان چھٹ گئی ہے ۔ اسی طرح ایک لڑکے لڑکے نے ایک سمان کو تکلیف دی جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے تھپڑ مارا۔ اس سے اس کا باپ بہت بگڑا مگر جلد ہی اس نے معافی مانگ لی به تو بعین آدمی اپنی تو قربانی کرلیتے ہیں مگر اپنی بیوی اور بچوں کی نہیں کرتے ، اس لئے وہ ترقی کرنے سے بھی رہ جاتے ہیں ، اسی سے قوموں کی ترقی کا اندازہ لگانا چاہیئے جو قومیں یہ تینوں قسم کی قربانیاں کرتی ہیں ، رہی ترقی کرتی ہیں ۔ پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اگر ترقی کے خواہشمند ہیں وان قربانیوں کو کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں۔ جب تک یہ قربانیاں نہیں ہوئیں کوئی نوم آگے نہیں بڑھ سکتی ۔ آگے بڑھنا تو کجا اپنے اصل مقام پر بھی قائم نہیں رہ سکتی بلکہ پیچھے کرنے لگ جاتی ہے۔ بعض لوگ تھوڑی سی قربانی کر کے منفی نصر اللہ کا اہتے ہیں۔ کہ کہ میں کہتا ہوں نصر اللہ انسان کے اپنے اعمال پر آتی ہے۔ انسان اعمال اس قسم کے بنائے کہ نصر اللہ لانے والے ہوں پھر اگر نصر اللہ نہ آئے تو کہہ سکتا ہے مٹی نصر اللہ لیکن اگر وہ اعمال تو اس رنگ میں نہ کرے کہ نصر اللہ آئے لیکن منی نصر اللہ کی پکار لگاتا رہے تو یہ اس کی نادانی ہو گی ۔ خدا اس عید کے ذریعہ بھی یہ بتانا چاہتا ہے کہ مرد بچے اور حور میں جب تک ابرا هستیم اسمعیل اور ہاجرہ کی طرح قربانیاں نہ کریں منی نصر اللہ نہیں کر سکتے۔ ہاں اگر وہ اپنی قربانیوں کو ابراہیم اسمعیل اور ہاجرہ کی قربانیوں جیسا بنا لیں اور پھر نصر اللہ میں دیر ہو تو کہہ سکتے ہیں مشی نصر اللہ ۔ پس اگر تم نصر اللہ حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنی اور اپنی بیوی اور بچوں کی قربانیوں کو ابراہیم اسمعیل اور ہاجرہ کی قربانیوں جیسا بناؤ۔ میں ابھی اور باتیں بھی کہنا چاہتا تھا ۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ خطبہ لمبا ہو گیا ہے اس لئے میں اس کو اسی جگہ بند کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالے ہم سب میں ایسا اخلاص تقولی اور طہارت پیدا کرے کہ نیچے طور پر اپنی اولا داور اپنے بچوں اور اپنی بیویوں کی قربانیاں کر گئیں