خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 107

اس کام کو کر ہی لیا۔ غرض حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام کی اس فرمانبرداری کا لیسی نتیجہ ہے کے کہ بائیبل میں ان کے متعلہ آتا ہے۔ اسے ابراہیم ! میں تیری نسل کو ریت کے ذروں کی طرح بڑھا دیا اور وہ کمیت اور تعداد اور زمانہ اور مکان کے لحاظ سے بھی بڑھے گی اور دنیا کے پھیلاؤ کے لحاظ سے وہ پھیلے گی اور ہر زمانہ کے لحاظ سے اسے برکت دی جائے گی۔ یہ سب ابراہیمی قربانی تھی جو اس قدر پھل لائی ۔ اب دیکھنا چاہئیے کہ ابراہیمی قربانی کیا تھی۔ وہ قربانی بالیقین ترقیوں کا ذریعہ تھی جس کے ذریعہ ان کی نسل بڑھی پھیلی اور پھولی - آج ہمیں بھی یہی دیکھنا چاہیئے اور ہمیں بھی کوشش کرنی چاہیئے کہ ہم بھی خدا کی محبت کے سامنے سب محبتوں کو قربان کر سکیں تا ہم بھی ترقی حاصل کرنے والے نہیں۔ اگر کوئی قوم ضائع ہوتی ہے تو اسے دیکھنا چاہیے کہ کس طرح وہ بیچ سکتی ہے اس کا ضائع ہونے سے بچنا اور غالب آنا اسی طرح ہو سکتا ہے کہ وہ ابراہیمی قربانی کرے۔ ابراہیمی قربانی کیا ہے۔ خاندان کے تمام افراد کی قربانی ہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا کہ آپ نے خواب میں دیکھا ہکیں قربانی کر رہا ہوں ۔ اور اس کے مطابق قربانی کرنے کی آپ نے کوشش بھی کی مگر چونکہ خدا تعالے کی یہ منشاء نہ تھی اس لئے وہ اس رنگ میں نہ ہوئی جبکہ اس رنگ میں ہوئی جو خدا تعالے کی منشاء کے مطابق تھا۔ اور خدا تعالے کی منشاء یہ تھی کہ وہ اپنی اولاد کی محبت کو قربان کر دیں اور اسے دور جنگل میں چھوڑ آئیں ۔ خاندان کا مجموعہ مرد بیوی اور اولاد ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خاندان کا بھی یہی مجموعہ تھی ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام خود، حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعیل ۔ یہ تینوں تھے جن سے یہ خاندان تھا ۔ مگر خدا کے لئے آپ نے حضرت اسمعیل علیہ السلام اور ان کی ماں ہاجرہ کو دور جنگل میں چھوڑ دیا اور یوں ان کی محبتوں کو قربان کر دیا ۔ وہ پھری جو خواب میں اولاد کو ذبح کر رہی تھی ، وہ یہی تھی جو اس رنگ میں چلی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نہ صرف اپنی اولاد کی قربانی کی بلکہ خدا کے لئے اپنی اولاد کے ساتھ اپنی بیوی کی بھی قربانی کردی ۔ پس یہ قربانی اکیلے حضرت ابراہیم علیہ الصلوة والسلام کی ہی نہ تھی بلکہ حضرت اسمعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ کی بھی تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تو اس طرح کہ وہ خدا کے لئے اپنے لڑکے کو جنگل میں چھوڑ آئے۔ حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اس طرح کہ انہوں نے خدا کے السلام کی اس لئے جنگل میں چلے جانا منظور کر لیا۔ اور حمد جانا منظور کر لیا۔ اور حضرت ہاجرہ کی اس طرح کہ وہ خدا کے لئے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو لے کر جنگل میں چلی گئیں ۔ اس وقت اسحق نہ تھے، وہ بعد میں پیدا ہوئے تھے یہ قربانی صرف ان تینوں کی تھی۔ اور ان تینوں کی ہی قربانی مکمل ہو گئی اور یہ اس قربانی کا مکمل ہونا ہی تھا جس کے بعد خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام سے یہ وعدہ کیا کہ تیری اولاد