خطبات محمود (جلد 2) — Page 105
۱۰۵ کہ جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے اسمعیل کو ذبح کر رہے ہیں تو انہوں نے بعد میں اسمعیل سے اس کے مست کے متعلق پہ چھا۔ چنانچہ قرآن شریف میں یہ الفاظ موجود ہیں۔ فَانظُرْ مَاذَا تَرَی یعنی اے بیٹے میں خواب میں دیکھ تو رہا ہوں کہ تمھیں ذبیح کر رہا ہوں ۔ اب تمہاری کیا منشاء ہے ، کیا تم چاہتے ہو کہ فی الواقع تم ذبح کر دیئے جاؤ اگر تیری مرضی ہو تو میں اس کام کو کروں ۔ گو یہ کام میرے ہاتھوں ہوتا ہے مگر بے در حقیقت قربانی تیری کیونکہ تم نے قربان ہونا ہے ۔ بائیبل تو اپنے بیان سے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو نعوذ باللہ دھوکہ باز قرار دیتی ہے۔ مگر قرآن میں ایسا نہیں ہے بلکہ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَی کے الفاظ ↓ اظ اس میں موجود ہیں جن میں جا میں حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام حضرت اسمعیل سے یہ و پوچھتے ہیں۔ آیا تو تیار ۔ کا ا رہے ۔ اگر تو تیار ہے تو پھر یہ کام کیا جائے ۔ ان دونوں بیانات میں کتنا عظیم الشان فرق ہے اور واقعہ کی نوعیت بتاتی ہے کہ قرآن کریم کا بیان سچا ہے ۔ بائیبل تو کہتی ہے ۔ حضرت ابراہیم عليه الصلوة والسلام حضرت اسحق کو بتاتے ہی نہیں کہ میں تمھیں قربان کرنے کے لئے جاتا ہوں مگر قرآن صاف بتاتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے صاف صاف حضرت اسمعیل کو بتا دیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تجھے ذبح کر رہا ہوں۔ پھر بائیبل اپنے بیان کو یہیں تک چھوڑ دیتی ہے۔ لیکن قرآن آگے اس بات کو بھی بیان کرتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمعیل علیہ السلام سے ان کی مرضی بھی دریافت کی۔ پھر ہی نہیں کہ صرف یہ سوال کر دیا ہو کہ تیری اس کے متعلق کیا مرضی ہے بلکہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کے جواب کو بھی بیان کر دیا ۔ کہ اسے باپ جو کچھ تجھے حکم دیا گیا ہے بلا تامل اسے پورا کر ۔ انشاء اللہ تعالے تو مجھے صابرین میں سے پائے گا۔ اس سارے واقعہ کو قرآن شریف میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ فَلَمَّا بَكُمْ مَعَهُ الشَّعْيَ قَالَ بنَى إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرَى - قَالَ يَابَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُ فِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصَّبِرِينَ ۔ یعنی جب اسمعیل سیانے ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنا خواب ان کے سامنے بیان کیا اور ان کی مرضی دریافت کی ۔ جس کا جواب حضرت اسمعیل علیہ السلام نيَابَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُ فِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصبرین دیتے ہیں۔ یعنی اسے باپ ! آپ اس کے متعلق اپنا حصہ ادا کریں ۔ میں اپنا حصہ ادا کرونگا یہ سچی قربانی تھی جس میں قربان ہونے والے کی رضامندی بھی شامل تھی ۔ رہی یہ بات کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام نے کیوں آمادگی ظاہر کی یسو اس کی وجہ یہ ہے کہ انبیاء پہلے دستوروں کو قائم رکھتے ہیں اور اس وقت تک ان کو قائم رکھتے ہیں جب تک وہ دائمی صداقتوں کے خلاف نہ ہو جائیں۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام کے زمانہ میں انسانی قربانی ہوتی تھی۔