خطبات محمود (جلد 2) — Page 103
۱۰۳ اڈ کا بھی اکلوتا لڑکا اور وہ بھی جو بڑھاپے میں ہوا۔ یہ تو خدا کا فضل تھا کہ اس کے بعد اسحق بھی پیدا ہو گیا ورنہ امید نہیں تھی۔ اس وقت ایک ہی لڑکا تھا اور وہ اسمعیل تھا۔ خدا نے جب س کی قربانی کرنے کو کہا تو حضرت ابراہیم علیہ الصلوة و السلام اس کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے ۔ اب نہ اولاد ، نہ دوست نہ ماں باپ تھے جو قربان کرنے سے رہ گئے۔ انہوں نے خدا تعالٰی کی فرمانبرداری کے لئے ان میں سے کسی کی پرواہ نہ کی ۔ وہ سب کو قربان کرنے کے لئے تیار تھے ۔ دوست بھی ، ماں باپ بھی ، اولاد بھی اور ساری اولاد، اس وقت اسمعیل ساری اولا دہی تھی ۔ باپ اور دوستوں کو قربان کر دیا ۔ وطن کو چھوا یا ۔ وطن کو چھوڑ دیا ۔ اب کوئی رشتہ دار بھی نہیں مل سکتا بان بار تھا تو اس ساری قربانی کی یاد گار ہیں اس عید کو قائم کیا گیا۔ کہ خدا نے ابرا رالله اس قربانی کی حقیقت بتانے میں بائبل اور قرآن میں فرق ہے ۔ بائیبل جس رنگ میں اسے بیان کرتی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں تحریف ہو گئی ہے۔ لیکن قرآن کریم اسے جس عمدگی کے ساتھ بیان کرتا ہے اس سے اس واقعہ کی اصل حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ بائیبل کہتی ہے ۔ انے ابراہیم کو حکم دیا کہ اپنے اکلوتے اسحق کو قربان کری۔ ابراہیم نے کہا ۔ قربانی کے لئے ۔ لئے سامان نہیں ۔ خدا نے کہا۔ یہ قربانی ضرور کرنی چاہیئے ۔ تب ابراہیم اسحق کو باہر لے گئے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ۔ اور قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے ۔ ابھی چھڑی پکڑی ہی تھی کہ خدا تعالے کے فرشتے نے آواز دی ۔ اس کو مت قربان کر اور ایک مینڈھا اس کے عوض قربان کرنے کے لئے وہاں موجود کر دیا گیا ہے مگر قرآن شریف کہتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام کو حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ لڑکے کو قربان کریں ۔ بلکہ آپ نے رویا دیکھی تھی کہ وہ اپنے لڑکے کو خدا تعالے کی راہ میں ڈبج کر رہے ہیں۔ اور اس رویا کی بناء پر وہ اپنے لڑکے کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ بائیل کہتی ہے بیشک قربان نہیں کیا گیا مگر یہ ایک آزمائش تھی جو حضرت ابراہیم علیہ السلامکی کی گئی ہیں لیکن ہم کہتے ہیں آزمائش کسی طرح ہو گئی کیونکہ آزمائش دو طرح ہوتی ہے ۔ یا تو جس کی آزمائش کی جائے اسے بتانے کے لئے کہ تیرا ایمان پختہ ہے۔ یا دوسرے لوگوں کو بتانے کے لئے کہ یہ خدا تعالے پر ایمان رکھنے میں اتنا مضبوط ہے لیکن جو آزمائش ابتلاء ہوتی ہے وہ بنی پر نہیں آتی۔ رہی قربانی، بائیبل کہتی ہے کہ یہ پوشیدہ قربانی ہوئی ہے کیونکہ ملی ہوئی نہیں۔ اور اگر فی الواقع ہوئی نہیں تو یہ بات ہی لغو ہو جاتی ہے۔ رہی تیسری ختم کہ علی الاعلان قربانی ہو ۔ مگر علی الاعلان ہوئی نہیں تو ان صورتوں میں اگر اس پر غور کیا جائے تو یہ الہام اگر حضرت ابراہیم علیہ الصلوة و السلام کو بیوا کہ لڑکے کی قربانی کر تو ہے وجہ ہوا تھا کیونکہ جب وہ قربانی فی الواقع ہوئی نہیں تھی تو ایک ایسی بات کے لئے کسی کو کچھ کہنا جوکچھ کرنی ہی نہیں بالکل بے وجہ ہے میئر قرآن شریف ان سب باتوں کے