خطبات محمود (جلد 2) — Page 99
۹۹ کیا جاتا ہے۔ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ مثیل موسی کی ترقی جلد ہوتی ہے اور مشیل پیسے کی بتدریج ۔ اور چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام مثیل عیسی ہیں، اس لئے آپ کے سلسلہ کی ترقی بھی آہستگی کے ساتھ ہوتی ہے اور جب ترقی آہستگی کے ساتھ ہونی ہے تو عیسوی سلسلے کی طرح اس کی قربانی بھی آہستہ آہستہ ہو گی جو آہستہ آہستہ بڑھتی رہے گی۔ اس وجہ سے ضروری ہے کہ مالی قربانی میں دن بدن اضافہ ہو ۔ اسی طرح وصیت کا حصہ ہے۔ اس کے متعلق بھی کہا گیا ہے کہ یونہی اس کی شرح بڑھائی جا رہی ہے۔ مگر اس کے متعلق بھی سوچنا چاہیے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے وقت وہ شرح نہیں تھی جواب ہے اور جس پر لوگ میتیں کر رہے ہیں تو یہ بھی اسی اصل کے ماتحت ہے کہ یہ ترقی آہستگی کے ساتھ ہونی تھی ۔ اور جوں جوں قربانیاں بڑھ رہی ہیں تزکیہ اور طہارت بھی بڑھتی چلی جاتی ہے اور ایمانی حالت میں ترقی ہوتی چلی جا رہی ہے ۔ جو پھر الٹ کر زیادہ قربانی کرنے کا باعث ہوتی ہے ۔ مجھے اگر سلسلے کی ترقی کے لئے مال زیادہ جمع کرنے کا شوق ہے تو اس سے ہماری جماعت ہی کی شان بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ کیونکہ قربانی میں کی کرن سے ہماری ایمانی حالت اور اخلاص لوگوں کے سامنے آتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام مسیح موعود عليه الصلوة و السلام کے زمانہ میں اس در کے جماعت کی حالت نہیں آئی تھی جس درجہ پر اب ہے اور جس درجہ پر ہے اور جس درجہ پر کھڑے ہو کے جماعت کے پر عام افراد یکدم بڑی بڑی قربانیاں کر سکتے۔ مگر اب جوں جوں زمانہ گذرتا جاتا ہے ایمان اس رنگ میں آتا جاتا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام پیدا کرنا چاہتے تھے۔ اور گو یہ حالت قربانیوں سے ہی پیدا ہو رہی ہے جو آہستہ آہستہ ہو رہی ہیں ۔ ۔ مگر جب یہ حالت پیدا ہو رہی ہے تو اس کا یہ بھی تو تقاضا ہے کہ پہلے سے بڑھ کر قربانیوں کی تحریک کرے پس چندہ اور وصیت وغیرہ کی شرح کا بڑھتا چلا جانا ایمانی حالت کے ترقی یافتہ ہونے کے نتیجے میں ہے گو یہ ترقی قربانیوں سے حاصل ہو رہی ہے مگر یہ ترقی قربانیوں کے لئے کبھی تو بہت دلا رہی ہے۔ کہنے والے یہ تو کہہ دیتے ہیں کہ شرح چندہ بڑھائی جا رہی ہے مگر نہیں دیکھتے کہ اس طرح ان کی ایمانی حالتوں کی تصدیق کی جا رہی ہے ۔ آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کثرت سے مال آنے کے متعلق بھی تو ارشاد فرمایا ہے ہے کیا اگر جماعت نے اسی حالت پر رہنا ہوتا جس حالت میں وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے وقت ہمیں تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کر سکتے تھے کہ کثرت سے مالی آئیں گے۔ حضرت صاحب و کہ سے کا یہ کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ جماعت آہستہ آہستہ ترقی کرتی چلی جائے گی اور آخر اس مقام تک پہنچ جائے گی کہ مالوں کی قربانیوں کی ان کے سامنے کوئی حقیقت نہ رہے گی ۔ قرآن شریعت میں آتا ہے کہ دس کافروں کے مقابلہ میں ایک مسلمان کافی ہے اور مسلمانوں کو