خطبات محمود (جلد 2) — Page 97
१८ قربانی سے پہلے ہوتی ہے نہ کہ قربانی کے بعد یا پھر قربانی کے ساتھ یعنی اسی دن عید اور اسی دن قربانی ہوتی ہے۔ اور نماز کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو یہ عید پہلے ہے اور وہ پیچھے ۔ تو یہ ختلاف بھی ایک نکتہ ہے اور اس میں بھی ایک سبق ہے ۔ ان عیدوں میں جو فرق ہے وہ یونی نہیں ۔ اس نکتہ پر جو اس فرق میں ہے اگر غور کیا جاے تو معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت اس کے اندر نبوت کا ایک انکشاف کیا گیا ہے۔ اگر ہم اس بات کو مد نظر رکھیں کہ ایک میں عبادت بعد میں آتی ہے اور ایک میں ساتھ ہی یا پہلے تو اس میں نکتہ یہ ہے کہ پہلی عید میں جو روزوں کی عید ہے آہستہ آہستہ نفس کی قربانی ہوتی ہے اور ایک شخص برابر یہ قربانی کئے جاتا ہے اور اس کے بعد اس کو عبادت کی توفیق ملتی ہے۔ مگر اس عید میں نفس کی قربانی آهسته آہستہ نہیں ہوتی ۔ بلکہ یکدم ہوتی ہے اور عبادت اس قربانی سے پہلے کی جاتی ہے۔ روزوں کی عید میں روزوں کے ذریعہ اپنے نفس کی قربانی کی جاتی ہے مگر اس عید میں بکرے کی قربانی ہوتی ہے اور بکرے کی قربانی کو اپنی جان کی قربانی کے برابر سمجھنا چاہیئے۔ اس میں یہ نکتہ بنایا گیا ہے کہ انسانی اعمال دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک عمل ایسا ہوتا ہے کہ عبادت کی توفیق قربانی کے ساتھ ملتی ہے اور ایک ایسا عمل ہوتا ہے کہ قربانی کی توفیق عبادت کے ساتھ ملتی ہے۔ پہلی قسم کے اعمال میں قربانی پہلے کرنی پڑتی ہے۔ اور تزکیہ نفس پیچھے حاصل ہوتا ہے اور دوسری قسم کے اعمال میں پہلے تزکیہ نفس حاصل ہوتا ہے اور پھر قربانی کرنی پڑتی ہے۔ ان دونوں قسم کے اعمال کے عنونوں میں ایک فرق واضح ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ پہلی قسم کے اعمال میں تزکیہ نفس سے پہلے جو قربانی کی جاتی ہے اس کا کرنے والا قربانی کی خواہش آہستہ آہستہ ل ہو کرتا ہے ۔ اور دوسری قسم کے اعمال میں جن میں تزکیہ نفس معینی عبادت پہلے کی جاتی ہے۔ قربانی کرنے والا شخص قربانی کی خواہش میدم کرتا ہے جس عمل میں قربانی کی خواہش آہستہ آہستہ کی جاتی ہے اس میں تزکیہ نفس دیر کے بعد ہوتا ہے۔ چنانچہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی تو ہیں جن کو آہستہ آہستہ قربانی کے موقعے ملے ہیں ، ان کا تزکیہ نفس بھی آہستہ آہستہ ہوا۔ اور وہ قومیں جنھیں تقدیم قربانی کرنے کے موقعے ملے ، ان کا تزکیہ نفس بھی فوری طور پر ہوا۔ چنانچہ جو انبیاء مشیل مونٹی کھلاتے ہیں ان میں تزکیہ نفس اور قربانی ساتھ ساتھ ہوتی ہے ۔ ان کے لئے سامان ہی ایسے کئے جاتے ہیں کہ یہ دونوں باتیں اکٹھی ہی ہوتی ہیں۔ اور وہ انبیاء جو مثیل میشے کہلاتے ہیں۔ ان میں قربانی آہستہ آہستہ ہے اور ان کا تزکیہ بھی دیر سے ہوتا ہے۔ روزوں والی مثال کا مطلب یہ ہے کہ آہستہ آہستہ قربانی کی جاتی ہے اور چونکہ قربانی آہستہ آہستہ کی جاتی ہے اس لئے تزکیہ بھی آہستہ آہستہ ہوتا ہے اور ان کی تربیت بھی آہستہ آہستہ ہوتی ہے۔