خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 96

94 لکھا ہے ان کے روزہ نہ رکھنے کی حالت کو دیکھ کر یوحنا کے شاگردوں نے حضرت مسیح کے پاس اگر اعتراض کیا کہ تیرے شاگرد روزہ نہیں رکھتے ۔ حضرت مسیح نے جواب دیا ۔ کیا براتی جب تک دولہا ان کے ساتھ ہے اُداس ہو سکتے ہیں۔ لیکن دے دن آرنیکے که دولہا ان سے جدا کیا جا سے جدا کیا جائے گا ۔ تب وے روزے رکھیں گے اللہ اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ گو ان کے روزے مقرر تھے مگر اس وقت رضاء الہی اسی میں تھی کہ حضرت مسیح کے شاگر دکھائیں اور پییں ۔ جو لوگ اللہ تعالے کی رضاء کے خواہاں ہوتے ہیں وہ انس بات کو جانتے ہیں کہ اس کی رضاء اس کی اطاعت اور فرمانبرداری میں ہے۔ نہ کھانے میں اس کی رضاء ہے اور نہ فاقہ میں اور نہ اچھا پہننے میں ہے اور نہ نگا ر ہتے ہیں۔ جس وقت اس کی رضا ء ہو کہ انسان کھائے اس وقت اگر انسان نہ کھائے تو مجرم ہے اسی طرح پینے کے متعلق ہے اسی طرح پہننے کے متعلق ہے کہ اگر اس کی رضاء اس میں ہو کہ انسان فلاں کام کرے تو ایسا ہی کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس لئے ہر شخص کو چاہیے کہ دیکھے خدا تعالے کیا چاہتا ہے۔ اور پھر اس کے مطابق کام کرے تا اس کی رضاء کا پانے والا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ایک جنگ جارہے تھے بعض صحابہ نے روزے رکھے علیہ ابا ہوئے تھے ۔ جب موقعہ پر پہنچے تو جو روزہ دار تھے وہ تو پہنچتے ہی زمین پر جا پڑے اور کچھ کام نہ کر سکے۔ اور جو بے روزہ تھے وہ کام پر لگ گئے۔ اور انہوں نے فورا تمام انتظام کر نا شروع کر دیا۔ اس طرح بے روزہ روزہ داروں سے بڑھ گئے ہیں تو ہر ایک چیز کا مقام ہوتا ہے۔ جس موقع چیز پر جس رنگ میں خدا کی رضا حاصل ہو سکتی ہو اسی رنگ میں حاصل کرنی چاہئیے ۔ اگر آج کوئی شخص روزہ رکھ لے اور بال بچوں کو بھی رکھا دے تو وہ مجرم ہوگا۔ یا اگر با وجود استطاعت رکھنے کے بجائے عمدہ کھانوں کے صرف دال پکا لے تو وہ بھی مجرم ہے۔ اس ایک سبق یہ ہے کہ انسان خدا کی رضاء کے موقعہ محل کو دیکھے اور پھر اس کے مطابق عمل کرے ۔ اگر وہ موقعہ عمدہ کھانے اور عمدہ پہننے کا ہے تو حمدہ کھائے اور عمدہ پہنے کہ اس میں ہی رضاء الہی ہے۔ اور اگر وہ وقت فاقہ کا ہے تو اس وقت فاقہ کرے کہ رضاء الہی اس وقت اسی میں ہے۔ دوسرا ایک اور سبق بھی ان عیدین سے ملتا ہے ۔ مگر اس سبق سے پیشتر ان ہر دو کے ما به الا تیاز کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ ایک عید کو قربانی کی عید کہتے ہیں۔ جو آج ہم یہ گذر رہی ہے۔ یہ عید قربانی سے پہلے ہے اور دوسری عید جو رجو ہے وہ قربانی کے بعد ہے۔ وہ روزوں کی عید کہلاتی ہے ۔ روزوں کی عید قربانی کے بعد آتی ہے کیونکہ روزہ رکھنا قربانی ہی کی مگر جو آج کی عید ہے ۔ یہ