خطبات محمود (جلد 2) — Page 61
در اصل یہ رویا ایک بنیاد تھی جس کا دامن قیامت تک کے لئے وسیع تھا اور اس رڈیا کے دونوں پہلو تھے مندر بھی اور مبشر بھی۔اللہ تعالے نے بتا یا کہ یہ ڈیا کے منذ رحصہ کی ہی این اور دکھ سے بچنے کے لئے بکرے کی قربانی ادا کرو۔چنانچہ اسی ابراہیمی سنت کے ماتحت مسلمانوں کو بھی قربانی کا حکم ہے۔اور اس پر مسلمان ہمیشہ سے عمل کرتے چلے آئے ہیں۔مگر چونکہ اس رؤیا کے دونوں پہلو میں مندر بھی اور بیشتر بھی اسی وجہ سے اس قربانی اور صدقہ میں فرق ہے۔صدقہ کی قربانی کا گوشت انسان کو خود کھانا جائز نہیں ہے مگر اس قربانی کا گوشت انسان خود بھی استعمال کر سکتا ہے اور اپنے دوستوں اور غرباء ومساکین میں بھی تقسیم کیا جاتا ہے۔" در اصل یہ رویا حضرت اسمعیل علیہ اسلامیہ کی ہجرت کی پیشگوئی تھی جو حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو قبل از وقت اشارہ بتائی گئی کہ اپنے تھے بچے کو ایک ایسے بے آب و دانہ خیل میں جہاں سینکڑوں میل تک نہ پانی نہ کھانے کا سامان کچھ بھی میسر نہ ہو گا، وہاں چھوڑنا پڑے گا۔جو در اصل ان حالات کے ماتحت ذبح کرنے سے بھی زیادہ سخت ہوگا۔اور یہی وہ قربانی تھی جس کی طرف رویا میں اشارہ تھا۔ورنہ یہ خیال کہ بچے کو ذبح کر دو اور پھر ہیں۔اس کے بعد اس کا کوئی نتیجہ نہیں، یہ تو ایک تسخر بن جاتا ہے جو اللہ تعالئے اور انبیاء کی نشان سے بعید ہے گو حضرت ابراہیم علیہ سلام نے وہی سمجھا جس کے مطابق اپنے اخلاص اور علم کی بناء پر عمل در آمد کیا مگر در اسل منشاء الهی وہی تھا جو واقعات سے ثابت ہوا۔غور کا مقام ہے کہ حضرت اسمعیل علیہ اسلام کی عمر اس وقت گیار یا بارہ برس کی ہے حکم ہوتا ہے کہ اس کو لق ووقی جنگل میں چھوڑ آئے جہاں سینکڑوں میل تک پانی ہے نہ دانہ بمحضر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس واقعہ کو یوں بیان فرماتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے یک تھیلے میں تھوڑی کھجوریں اور ایک مشکیزہ میں کچھ پانی لیا۔اور حضرت ہاجرہ اور اسمعیل کو لے کر ایک جنگل کی طرف روانہ ہوئے۔حضرت ہاجرہ پو چھپتی ہیں کہ آپ کہاں جاتے ہیں اور ہمیں کدھر لے جاتے ہیں۔مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کوئی جواب نہ دیا اور جنگل کی طرف چلے گئے۔حضرت ہاجرہ بار بار پوچھتی تھیں مگر کوئی جواب نہ ملتا تھا۔حتی کہ اس خاص مقام پر پہنچے جہاں مکہ مکرمہ تھا۔اور جس جگہ ان کو پہنچانے کا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا تھا۔وہاں پہنچکر کھجور کا تھیلہ اور پانی کا مشکیزہ ماں بچے کے پاس رکھ کر آپ واپس روانہ ہوئے۔حضرت ہاجر گانے جب دیکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کو اس جنگل میں یکہ و تنہا چھوڑ کر خود واپس جا رہے ہیں تو وہ ان کے پیچھے پولیس اور عرض کیا کہ تمہیں اس جنگل میں چھوڑ کر آپ کہاں تشریف لے جاتے ہیں۔مگر