خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 55

۰۵ تو یہ عبید ہماری جماعت کے لئے ایک خاص نشان ہے کیونکہ اس پر خدا تعالے نے یہ حجزہ دکھایا کہ ایک ہمارے ہی ملک کا باشندہ جو نہ کبھی عرب میں گیا نہ کبھی خالہ کہلایا نہ اس نے علم عربی کی خاص طور تعلیم پائی اور لوگ مولوی پھوڑا سے مجلسی آدمی بھی نہیں سمجھتے تھے کیونکہ اس نے سب کو چھوڑ چھاڑ کر گوشہ تنہائی میں زندگی بسر کی اور لوگوں سے کوئی تعلق نہ رکھا۔اس پر خدا نے اپنا کلام جاری کیا۔اور اس نے بغیر کسی قسم کی تیاری اور عربی زبان میں تقریر کرنے کی مشق کے ایک لہے ؛ صعہ تک تقریر کی جو ایسی شستہ اور فصیح تھی کہ جس کو اس ملک والے بھی دیکھ کر حیران و ششدر رہ جاتے ہیں جن کی مادری زبان میں وہ کی گئی اور ایسی اعلیٰ درجہ کی ہے کہ اگر قرآن کریم کے بعد آسانی اور سہولت سے کوئی عبارت حفظ ہو سکتی ہے تو یہی تقریر ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی۔یہ حفظ کرنے کے اس قدر اقرب ہے کہ وہ دن جس میں کی گئی تھی ابھی ڈوبا نہیں تھا کہ چھوٹے چھوٹے بیچے اس کے فقرے گلیوں میں دوہراتے پھرتے تھے۔وجہ یہ کہ ایسی منفی اور مسجع ہے کہ بہت آسانی سے یاد ہو سکتی ہے۔اس وقت میری عمر بارہ برس کے قریب تھی اور کئی بچے مجھ سے بھی چھوٹی عمر کے تھے مجھے یاد ہے ہمیں اس تقریر کے کئی فقرے یاد ہو گئے تھے اور تقریر کرنے کے وقت کے نقشہ کا ایسا اثر تھا کہ بغیر اس بات کے علم کے کہ سواری کا پڑھنے کے ساتھ خاص تعلق ہوتا ہے ہم دیواروں کو گھوڑا بنا لیتے اور فقرات کو پڑھتے اور ہم سمجھتے کہ سواری سے ان فقرات کو خاص مناسبت ہے۔تو بلحاظ اس کے کہ اس عید کو ہماری جماعت کے ساتھ یہ خاص خصوصیت ہے کہ اس پر خدا تعالے نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ایک بہت بڑا معجزہ دکھایا ہمارے لئے یہ بڑی عید ہے۔پھر اس لحاظ سے بھی بڑی ہے کہ اس کے ذریعہ قربانیوں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے اور تمام بڑائیوں کے حاصل کرنے کے لئے نفس کی قربانی ضروری ہوتی ہے اس عید پر نفس کی قربانی کی طرف اشارہ ہے اور مال کی قربانی کرائی جاتی ہے لیکن جیسا کہ میں نے بنایا ہے، بڑائی چھوٹائی نسبتی امر ہے اور جس سے کوئی فائدہ اٹھائے ، وہی اس کے لئے بڑی ہے تاہم چونکہ اس عید میں قربانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ، اس لئے جو اس سے فائدہ اٹھائے وہ اسے بڑا کر سکتا ہے۔کیونکہ اس میں ایک طرف تو قربانی کی حقیقت اور اس کا نفع اور فائدہ بنایا گیا ہے اور دوسری طرف اس سے اس قربانی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو حضرت اسمعیل علیہ السلام نے کی۔دنیا میں لوگ معمولی معمولی باتوں کے لئے بڑی بڑی تکلیفیں اُٹھا کر چاہتے ہیں کہ ان کا نام مشہور ہو جائے مثل مشہور ہے کہتے ہیں کوئی عورت بھی اس نے انگور بھٹی بنوائی۔عورتوں کو دکھانے کے لئے وہ اس انگلی سے نہیں میں انکو سٹی پہنی ہوئی بھی باتوں باتوں میں اشارے کرتی۔