خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 50

٥٠ علیه و آله وسلم شہید ہو گئے۔تو ایک صحابیہ عورت گھبرا کر مدینہ سے نکل آئی اور ایک شخص سے جو میدان جنگ سے واپس آرہا تھا اس نے پوچھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا حال ہے۔اس نے اس کا تو کوئی جواب نہ دیا اور کہا کہ تیرا باپ شہید ہو گیا ہے۔عورت نے کہا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کیا حال ہے۔اس نے کہا تیرا بھائی بھی شہید ہو گیا۔عورت نے کہا میں سول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ کم کھال پو چھتی ہوں۔وہ شخص چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بخیرو عافیت دیکھ آیا تھا۔اس لئے ہے فکر تھا۔اس نے کہا۔اسے عورت تیرا خاوند بھی مارا گیا۔اس نے کہا۔میں تجھ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حال پوچھنتی ہوں۔ان کا کیا حال ہے۔اس نے کیا وہ تو زندہ سلامت ہیں۔عورت نے کہا۔الحمد للہ ! جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زندہ ہیں تو کسی کی موت کی پروا نہیں ہے۔تو اتنے رشتہ دار اس عورت نے قربان کئے مگر حضرت ابراہیم اور اس عورت کی نیکیتوں میں کچھ تو فرق تھا کہ ابراہیم کے محض ارادہ کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا گیا ہے مگر اس عورت کی ان قربانیوں کا ایسا نتیجہ نہیں نکلا۔اسی طرح عبداللہ ابن ابی ابن سلول کے بیٹے نے اپنے باپ کو اس لئے قربان کہ نا چاہا کہ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حضور گستاخی کی یہ قربانیاں بجائے خود تو بہت بڑی تھیں۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نیت کا مقابلہ ان کی نیت نہیں کر سکتی اسی لئے نتیجہ میں فرق ہوا۔اسی طرح مسلمانوں کی عراق میں ایرانیوں سے جب جنگ ہو رہی تھی تو ایرانی میدان میں ہاتھی لائے تھے وہ مسلمانوں کو کچلتے پھرتے تھے اور ایسی حالت مسلمانوں کی ہوگئی تھی کہ اگر وہاں شکست ہو جاتی تو ایران و عراق میں مسلمانوں کی فتوحات کا خاتمہ ہو جاتا۔اس وقت ایک مسلمان عورت کے چار بیٹے تھے۔اس نے ان چاروں کو بلایا اور کہا میں نے تمھیں پرورش کیا اور تمہارے باپ کی کبھی خیانت نہیں کی۔میرا تم پر حق ہے اور وہ حق میں آج اس طرح مانگتی ہوں کہ تم چاروں جاؤ اور اسلام کی حفاظت میں جان دید و سر پیچھے نہ ہٹو سیکے جان دینے کے لئے بھیجنا یہ بھی ایک قربانی ہے مگر اس کے چار بیٹے دے دینے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک بیٹا قربان کرنے میں بڑا فرق تھا اور وہ فرق نیت کا ہی تھا جس سے معلوم ہوا کہ نیت پر ہی ہر قسم کے اعمال کا نتیجہ مرتب ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر نہ کی نسبت فرمایا کہ ان کی بزرگی ان کی نمازوں کے باعث نہیں ہے۔بلکہ اس بات کے باعث ہے جو ان کے دل میں ہے یعنی نیست نہیں درجہ کو بڑھانے والی عمل سے بڑھ کر نیت ہوتی ہے جیسی اعلی نیست ہو۔ویسا ہی اعلی نتیجہ نکلتا ہے قربانی میں بھی نیست اصل چیز ہے اس لئے یاد رکھو۔اسلام کے لئے خدا کے لئے اور یہ