خطبات محمود (جلد 2) — Page 43
کہیں مختلف قسم کی بیماریوں سے لوگ مرتے ہیں، کہیں زہر سے مرجاتے ہیں، بعض قتل کئے جاتے ہیں خرمن ہزاروی ذریعوں سے لوگ مر جاتے ہیں اور کوئی نہیں جو ہمیشہ زندہ رہا ہو۔سب سے بڑا انسان جو دنیا میں آیا اور میں سے بڑا قیامت تک نہیں آئے گا وہ ہمارے آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔لیکن کیا آپ زندہ رہے، ہر گز نہیں بلکہ آپ کو بھی آخر دنیا کو چھوڑنا ہی پڑا۔آپ کی وفات کو حضرت کی خود دلار اسلام حضرت کیسے علیہ السّلام کی وفات کے لئے بطور دلیل پیش کیا کرتے تھے کہ جب آپ زندہ نہیں رہے تو حضرت عیسے کسی طرح زندہ رہ سکتے ہیں یہ آپ سید ولد آدم تھے کہیے تمام بنی آدم کے سردانہ تھے۔اور آپ کی وہ شان ہے کہ خدا تعا نے آپ کو فرماتا ہے۔قل ان کنتم تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُم الله میله گر تم اللہ سے محبت کرتے ہو اور اس کے محبوب بننا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ میری اطاعت کرو جب تم ایسا کروگے تو خدا تعالے تم سے پیار کرے گا۔پس جب آپ ایسا عظیم الشان اور بے نظیر انسان بھی بالآخر فوت ہی ہو گیا اور ایسے وقت میں ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایسے جلیل العت در انسان کو کہنا پڑا کہ اگر کوئی یہ کہے گا کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو میں اس کا سر تلوار سے اُڑا دوں گا۔غرض آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو جہاں چھوڑنا ہی پڑا۔اور آپ کی وفات پر حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا كنت السَّوَادَ لِلنَّاظِرِي فَعَمِيَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلَمتَ فَعَلَيْكَ كُنتُ أَحَاذِرَته کہ تو میری آنکھ کی پتلی تھا۔تیرے فوت ہونے سے میری آنکھ اندھی ہوگئی ہے، تیرا مرنا مجھے پر شاق تھا۔اب ہو چاہے مرے تجھے اس کی کچھ پرواہ نہیں۔غرض مرنا تو سب کو ہے لیکن موت، وہی مبارک ہے۔جو خدا کے لئے اور اس کے دین کی خاطر معہ محلہ ہزاروں من مائع ہو جاتا ہے لیکن کیا وہ قیمتی کہا جا سکتا ہے یا اسے جو انسان کے پیٹ میں جائے۔پھر وہ پھل قیمتی ہے جسے انسان کھائے یا وہ جو اگر چہ کچھ زیادہ دنوی صورت پر رہے لیکن گل سڑ کر زمین پر گر پڑے۔یقیناً ماننا پڑے گا کہ وسی پھیل قیمتی ہے جسے انسان نے کھایا اور جو انسان کے جسم کا کوئی جزوہ بنا اور خدا کی رضا کے ماتحت چلنے والا ہوا۔مثلاً وہ سیب کست در قیمتی تھا جس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھایا۔اور وہ آپ کے جسم اطہر کا کوئی حصہ بنا اور اس نے اس ذریعہ سے خدا کی رضا کے حاصل کرنے والے کام کئے۔تو اس سیب کو نہایت قیمتی کہا جائے گا۔اور اس کی موت و قربانی مقابل قدر ہوگی جو انحصرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود کا جزو ہوئی۔اسی طرح وہ جان جو خدا کی راہ میں صرف ہوئی