خطبات محمود (جلد 2) — Page 39
افرموده ۱۷ ستمبر اااه بقام عید گاه۔قادیان) قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ وَ لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُونَ يزا مالة اللہ تعالے کی سنت ہے کہ ہمیشہ کسی جماعت کی ترقی اور اس کی بلندی قربانیاں چاہتی ہے اور کوئی جماعت ایسی نہیں ملے گی جسے بغیر قربانی کے ترقی حاصل ہوئی ہو۔کوئی انسان ایسا نہیں ملیگا جس نے بغیر قربانی ترقی پائی ہو۔ترقی اور کامیابی کے لئے ضرور قربانی کرنی پڑتی ہے۔اور جب تک انسان قربانی نہ کرے وہ کوئی بڑی کامیابی اور عزت حاصل نہیں کر سکتا۔پس ہر ایک وہ شخص جس کے مدنظر ترقی ہو خواہ وہ دنیا دی ہو یا دینی ، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ تمام ان قربانیوں پر عامل ہو جو اس ترقی کے لئے ضروری ہیں اور ان قربانیوں کے لئے اس کے دل میں کسی قسم کی جھجک اور کسل پیدا نہ ہو کیونکہ جس کے دل میں ایسا خیال پیدا ہوتا ہے وہ کوئی قربانی نہیں کر سکتا اور جو قربانی نہیں کرتا اس کی امیدیں نا امیدی سے بدلی جاتی ہیں اور اس کی ترقی کی خواہشات کبھی پوری نہیں ہو سکتیں۔دنیا میں قربانی کا قانون ہر کام میں جاری ہے اور چھوٹی چیز بڑی چیز کے لئے قربان ہو رہی ہے۔دیکھو فد لاکھوں اور کروڑوں من بڑی محنت سے پیدا کیا جاتا ہے۔لیکن اس کا انجام کیا ہوتا ہے یہی کہ انسان کے اندر ایک بھٹی ہے جس میں جھونک دیا جاتا ہے۔ہندو ہونی کرتے ہیں اور اس میں گھی ، صندل، نافہ وغیرہ وغیرہ چیزیں جلاتے ہیں۔حالانکہ ان چیزوں کو بیرونی آگ پر جلا کر ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔خود انسان کے اندر ہی ایک آگ ہے جس میں ان کو جلایا جاتا ہے اور اس طرح وہ اس کی زیست کا باعث بنتی ہیں۔کیا یہ صحیح نہیں کہ کروڑوں من غل انسان کی زیست کے لئے اس کے پیٹ کے بھینٹ چڑھایا جاتا ہے۔اور اربوں من بھوسہ جانوروں کے تنور شکم میں جلایا جاتا ہے یہ کیوں ؟ اس لئے کہ جانوروں اور انسانوں کی زندگی بھوسہ وہ غل سے بہت قیمتی ہے۔اور وہ اسی صورت میں قائم رہ سکتی ہے کہ ان چیزوں کو اس کے لئے قربان کیا جائے پس وہ اس کی خاطر قربان ہوتی ہیں۔پھر ایک بڑے آدمی کی بقا کے لئے جس سے ملک اور قوم کو فائدہ پہنچتا ہو ہزاروں چھوٹے انسان قربان ہوتے ہیں اور ہزاروں اپنے وقت ، علم اور محنت اور جان تک کو اس کی زندگی قائم رکھنے کے لئے قربان کر دیتے ہیں