خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 392

حضرت ہاجرہ سے درخواست کی کہ انہیں پانی استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔اس کے بدلہ میں وہ ہر سال انہیں میں ادا کیا کریں گے۔چنانچہ انہیں اجازت دے دی گئی اور اس کے بدلہ میں کہ جو کچھ کھاتے اس کا دسواں حصہ آپ کو دے جاتے ہے پس اگر مبلغین ابراہیم مبنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے بیوی بچوں سے بھی حضرت ہاجرہ اور حضرت امیل والا سلوک کرنا چاہیئے۔اب تو یہ حالت ہے کہ وہ کہتے تو اپنے آپ کو ابراہیم ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ہاجرہ اور انیل کے لئے خرچ مقرر کیا جائے۔حالانکہ حضرت ابراہیم نے جب حضرت ہاجرہ اور حضرت آجیل علیہ السلام کو جنگل میں چھوڑا تھا تو انہیں صرف ایک مشکیزہ پانی اور ایک تھیلی کھجوروں کی دی تھی اگر تحریک جدید بھی اپنے مہر بلغ کے بچوں کو اتنا ہی خرچ دے تو میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کے لوگ تحر یک جدید کے افسروں کے پاس آئیں اور انہیں کہیں کہ تم پاگل ہو گئے ہو کہ ایک تعقیلی کھجوروں کی اور ایک مشکیزہ پانی کا مبلغ کے گھر بھجوا کر یہ مجھ لیتے ہو کہ اب تمر بھر کے لئے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ایسی صورت میں ان کا جواب یہی ہوگا کہ تم ابراہیم نہیں ہو۔اگر تم ابراہیم بنو گے تو تمہارے بیوی بچوں کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا۔جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیوی ہونا کے ساتھ ہوا۔یہ قدرتی بات ہے کہ جب ایک مبلغ کے بیوی بچے جدا ر ہیں گے تو وہ اس طرح قربانی کرے گا کہ جماعت کی تعداد بڑھے گی اور زیادہ سے زیادہ جنید سے آئیں گئے لیکن اگر وہ بیکار بیٹھا رہے گا اور دس سال کے بعد یہ رپورٹ بھیجے گا کہ دو احمدی ہوئے ہیں اور ڈیڑھ روپیہ چندہ ہے اور ساتھ ہی کہیے کہ میرے بیوی بچوں کو بھیج دیا جائے۔اور اس پر سینکڑوں روپیہ خرچ آئے تو کام کیسے ہو گا۔پس ہمارے مبلغوں کو اپنے اندر ابراہیمی روح پیدا کرنی چاہئیے اگر وہ یہ روح اپنے اندر پیدا کرلیں تو کوئی وجہ نہیں کہ نہیں اپنی کوششوں میں کامیابی حاصل نہ ہو۔دیکھو حضرت ابراهیم علیہ السلام کے مخالف آٹے ہوئے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ یا تو وہ تبلیغ سے باز آئیں ورنہ انہیں آگ میں ڈال دیا جائے۔حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے تبلیغ بند کرنے سے انکار کر دیا چنانچہ انہوں نے آپ کو آگ میں ڈال دیا۔اگر آپ کہتے کہ میں آگ میں نہیں پڑتا۔تو فرشتے آسمان پر چلے جاتے لیکن جب آپ نے کہا میں آگ میں پڑنے کے لئے تیار ہوں تو ضد العالے نے عرش سے کہا۔ينا رُكُوني بردًا وَسَلَمًا عَلَى إِبْرَاهِيمَه اسے آگ تو لوگوں کو تو جلاتی ہے لیکن ابراہیم کے لئے تو اس خاصیت کو چھوڑ دے اور ٹھنڈی ہوجا۔عظیم الشان نشان اس لئے ظاہر ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا تعالنے کے لئے جلنا منظور کر لیا تھا اگر تم بھی اسی طرح کے مومن بن جاؤ تو خدا تعالئے تمہارے لئے بھی اپنے نشانات نازل کرے گا