خطبات محمود (جلد 2) — Page 385
۴۴ ۲۶۱۵۵۵ و فرموده امور جولاتی ۱۹۵۵ به بت م لندن) یہ عید جس کو مسلمان عبید الا ضحیہ کہتے ہیں یعنی قربانیوں کی عید۔یہ ابراہم ملا اس کے ایک بیٹے کی یاد میں منائی جاتی ہے جس کے قربان کرنے کا اللہ تعالے نے ابراھیم کو حکم دیا تھا۔اور اللہ تعالی کے اس حکم کو پورا کرنے کے لئے براہیمہ تیار ہو گیا تھا۔وہ کونسا بیٹا تھا اس معاملہ میں اسلام اور عیسائیت میں اختلاف ہے۔بائیبل کہتی ہے کہ وہ اسحق تھا۔قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ ہمیں تھا جہانتک اس واقعہ سے جو نتیجہ نکلتا ہے۔اس کا تعلق ہے نہ بوح اسحق ہو یا اسمعیل ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔بات ایک ہی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خدا نے اپنے ایک بیٹے کی قربانی کا حکم دیا، اور اس نے قبول کر لیا۔لیکن جہاں تک اس واقعہ کے اخلاقی پہلو کا تعلق ہے قرآن کا بتایا ہوا واقعہ بہت زیادہ معقول معلوم ہوتا ہے۔بائیبل کہتی ہے کہ خدا نے ابراہیم کو مطلوبہ کے قتل کرنے کا حکم دیا۔اور اس نے اسے قبول کر لیا۔لیکن پھر وہ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب وہ اسے ذبح کرنے لگا تو فرشتہ نے اسے منع کر دیا کہ اس کو مت ذبح کر ملکہ ایک سکہ ا جو جھاڑیوں میں پھنسا ہوا کھڑا تھا اسے ذبح کر یہ گویا اسحق کو کسی شکل میں بھی ، نہ ظاہری الفاظ میں تشبیہی الفاظ میں ذبح کیا گیا۔گویا یہ سارا واقعہ ایک مضحکہ تھا۔ایک کھیل تھا۔جو خدا نے ابراہیم سے کھیلا آخر اس میں کیا لطف تھا کہ پہلے تو خدا نے ابراہیم سے کہا کہ تو اسطوح کو ذبح کر اور پھرا سے منع کر دیا۔بعض عیسائی پادری کہتے ہیں کہ خدا تعالے نے اس ذریعہ سے ابراہیم کو بتا یا کہ انسانی قربانی آئندہ نہیں ہوگی ہے لیکن یہی بات خدا تعالے اس سے زیادہ حمدہ اور صاف الفاظ میں بھی کر سکتا تھا۔قرآن کریم نے جو اسمعیل کا واقعہ بیان کیا ہے۔وہ نہایت معقول ہے اور ہر آدمی سمجھ سکتا ہے۔کہ اس واقعہ میں بہت سی حکمتیں تھیں اس میں کہا گیا ہے کہ خدا تعالے نے ابر اہمیت کو دو حکم دیئے ایک یہ کہ تو اسمعیل کو ذبح کر اور دوسرے یہ کہ تو ہمیں کو بغیر پانی اور بعد کھیتی ہاڑی والی جگہ میں چھوڑ آ یعنی مکہ میں جہاں وہ اس لئے دنیا سے دور رہ کر اور بھوک پیاس کی تکلیف برداشت کر کے زندگی گزارے کہ لوگوں کو دین کی تعلیم دیے اور خدائے واحد کی عبادت میں لگائے۔گویا ہمیں کی قربانی کا جوابراہیم کو حکم دیا گیا تھا وہ تشبیہی زبان میں تھا۔مراد یہ نہ تھی کہ واقعہ میں چھری سے اپنے بیٹے کو ذبح کرے جو بے کار اور بیٹیو رہ فعل ہے بلکہ ذبیح