خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 382

لوگوں کا ایک ایک بچہ ہوتا ہے تو ان کے آٹھ آٹھ ہوتے ہیں۔غرض قوموں کی ترقی کار از صریت ان میں ہے۔مگر بہت سے لوگ اپنی کم ہمتی کی وجہ سے پہلے بند پر بھی گر جاتے ہیں اور ان کی میز ہی حالت بالکل ایسی ہی ہو جاتی ہے جیسے کسی شاہد نے کہا ہے کہ۔۔اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے۔لیکن جو لوگ قربانیوں کے معیار کو بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔وہ اس زمانہ کو دیکھتے ہیں جبیں ہیں اللہ کی قربانیوں کا بدلہ ان کو ملتا ہے۔ایران کے بادشاہ نے صحابیدیم ن کے بادشاہ نے صحابہ کو میرٹ ایک ایک پیر محمد ایک ایک پند مر دنیا چاہا مگر جو صحابہ کو ملا اس کے مقابلہ میں پھلا پونڈ کی کیا حیثیت تھی۔حضرت عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کے متعلق آتا ہے کہ جب وہ فوت ہوئے تو باوجود پاس کے کہ وہ اس قدر صدقہ و خیرات کرنے والے تھے کہ و رب میں مشہور تھے پھر بھی ان کے ورثاء کو لاکھوں روپیہ ملا تو لیہ تعالئے غلبہ کے موقعہ پر قوموں کو بہت کچھ دیتا ہے لیکن اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ اس وقت بھی اس کی عادت میں یہ بات داخل ہو کہ اپنے نفس پر خرچ کرنے کی بجائے وہ اس برو پینے کو دین پر بچے کے ہے کر ہے ، غرباء پر خرچ کر ہے ، صدقہ و خیرات ارة ، صدقہ و خیرات میں دے۔یہ تو بے شک شریعت کہتی ہے کہ جب تھیں دولت ہے تو تمہارے جسم اور چہرہ پر بھی اس کے کچھ آثار ہونے چاہئیں مگر وہ کچھ آثار ہی کہتی ہے یا یہ نہیں کہتی کہ ساری دولت اپنے نفس کے لئے خرچ کرنی شروع کردو اور اچھے کھانے اور اچھے پینے میں مشغول وجاد لیکن بیوقوف اور نادان انسان اس وقت کے آنے سے پہلے پھر جاتا ہے بہ اور اس کی مثال ویسی ہی ہو جاتی ہے، جیسے ہمارے ملک میں مشہور ہے کہ تھکتے جٹ کٹوری تھی پی پی۔پانی آپھر گیا ہے۔" پھیلا ایک کٹوری کی بادشاہوں کی دوستوں کے مقابلہ میں کیا حیثیت ہے۔مگر وہ صرف کٹوری ملنے پر ہی اتنا مغرور ہو جاتا ہے کہ کبھی اس گھر میں جاتا ہے اور یہ دکھانے کے لئے کہ ہیں کے پاس کٹوری ہے وہ ان کے گھڑے سے پانی پینے لگ جاتا ہے کبھی دوسرے گھر میں جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے پیاس لگی ہے اور یہ بنانے کے لئے کہ اس کے پاسن کٹوری ہے وہ اس میں ان کے سامنے پانی پیتا ہے جو قوم اپنے بڑے وعدوں کے ہوتے ہوئے ایران کے بادشاہ کے پونڈ یا ایک کٹوری پر مرنے لگتی ہے اس کے متعلق کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ بڑھے گی۔وہی قوم رتی ہے جو خدا تعالے کے وعدوں کو اپنے سامنے رکھتی ہے جو سمجھتی ہے کہ ہم نے اخلاق اور روحانیت کے ساتھ دنیا کو فتح کرنا ہے اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں وہ ویسی ہی قربانی بھی کرتے ہیں اور ویسی ہی محنت بھی کرتے ہیں۔ت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب نیا نیا د خونی فرمایا تو مولوی به ان الدین صاحب