خطبات محمود (جلد 2) — Page 336
۳۲۶ ۴۰ ر فرموده ۱۳ ستمبر ۱۹۹۱ بهتام ابوه) آج میرا ارادہ تھا کہ ایک خاص مضمون کے متعلق خطبہ پڑھوں۔عام طور پر تو یہی ہوتا ہے کہ ئیں بغیر کسی خیال کے خطبہ کے لئے آجاتا ہوں بعض دفعہ شاید ۵۰۴۰ یا سو میں سے ایک دفعہ خطبہ کے لئے آنے سے پہلے بھی مضمون ذہن میں آجاتا ہے اور کبھی کبھی اس بات کے لئے فکر کیا جاتا ہے کہ آجکل کے اہم مسائل میں سے کونسا مسئلہ خطبہ میں بیان کیا جائے۔کل شام مجھے خیال آیا کہ عیدالاضحیہ کا تعلق جو درود سے ہے اس پر عید کا خطبہ پڑھا جائے۔چنانچہ اس بارہ میں کچھ سوچتا بھی رہا۔رات کو میں نے ایک رویا دیکھا، میں نے دیکھا کہ میں کہیں سے آرہا ہوں وہ بازار ہے یا گلی ہے جہاں میں جا رہا ہوں میں نے اس کے پہلو میں ایک مکان دیکھا جہاں میں جانا چاہتا ہوں معین صورت میں مجھے یا د نہیں کہ میں اس مکان میں کیوں جانا چاہتا ہوں۔اس مکان کا جو دروازہ ہے وہ گلی یا بازار میں ذرا اونچا کر کے لگایا گیا ہے۔وہ قریباً تین نسٹ بازار یا گلی سے اونچا ہے۔خواب میں مجھے یہ احساس ہے کہ میرے گھلنے میں تکلیف ہو رہی ہے ، میں نے سہارا لیکر پتھر پر پاؤں رکھا۔ہے۔آگے ایک کھلا میدان ہے اس کھلے میدان میں میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام ایک چارپائی پہ بیٹھے ہوئے ہیں۔آپ کی زیارت ایک عرصہ کے بعد اس خواب کے ذریعہ ہوئی ، آپ نے داڑھی پر خضاب لگایا ہوا ہے وہی خضاب جو آپ سے منقول ہے ہے اور میں بھی وہی لگاتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس میں مندی ذرا زیادہ ملایا کرتے تھے لیکن ہیں ذرا کم مہندی ملاتا ہوں۔اس لئے حضرت مسیح موجود علیہ الصلوۃ وال ع موجود علیہ الصلوۃ و السلام کے بالوں پہ ذرا سرخی ہہ جاتی تھی ، اویسی سرخی جیسے وفات کے قریب جب آپ خضاب لگاتے تھے تو بالوں پر دکھائی دیتی تھی۔اس خطبہ کو الفضل میں اشاعت کے لئے بھجواتے وقت حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اپنے دست مبارک سے یہ نوٹ رقم فرمایا۔جو اس خطبہ کی ابتداء میں درج ہے :۔ی خطبہ نہایت لطیف اور ضروری تھا گر خطبہ لکھنے والے ظالم نے اسے اس قدر نسخ کیا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ایس طرح کی خلافت عقل باتیں لکھی ہیں کہ شبہ ہوتا ہے کہ وہ سکھتے ہوئے اپنے جو اس میں تھا یا نہیں۔ہر حال تکلیف اٹھا کر جو قدر اصلاح کر سکا ہوں کر کے چھپوانے کے لئے بھجواتا ہوں۔(مرتب)