خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 26

۲۶ مگر حد شیوں میں یہ بھی آیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ کو شر ایک نہ ہے جو جنت میں ہے اور مجھے دی گئی ہے اور یہ کوئی ضعیف و کمزور حد شیں نہیں ہیں بلکہ صحیحین میں ہیں ہے اور قابل قبول ہیں لیکن ان میں تو کچھ بیان کیا گیا ہے اس کے متعلق سعید ابن جبیر نے اس طرح فیصلہ کر دیا ہے کہ جب اس نے کوثر کے معنی خیر کثیر لوگوں کے سامنے پیش کئے اور انہوں نے کہا کہ اس کے معنی تو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے ایک نر کے کئے ہیں۔تو انہوں نے کہا کہ کیا حوض کوثر خیر نہیں ہے یا کیا وہ شر ہے۔اس پر سب خاموش ہو گئے تو بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کوثر کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ وہ جنت میں ایک نہر ہے۔اس کے بڑے بڑے فوائد ہیں۔اس لئے پانی کی بہت اعلیٰ درجے کی لذت ہے۔میے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوثر سے مراد وہی نہر ہے اور کچھ نہیں ہے۔کیونکہ عبد اللہ بن عباش جن کے تفقہ فی الدین کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تھی لیے چنانچہ آپ کو ایسا علم قرآن عطا بھی ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ انہیں سب سے آگے بٹھاتے تھے اس پر بعض صحابہ کو اعتراض پیدا ہوا کہ عباس کے بیٹے کو تو آگے بٹھایا جاتا ہے۔ہمارے بیٹوں کو کیوں نہیں بٹھایا جاتا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔کسی وقت میں تمھیں بتاؤں گا کہ عبائش کے بیٹے کو کیوں آگے بٹھایا جاتا ہے اور اوروں کے بیٹوں کو کیوں نہیں سمجھایا جاتا۔ایک دن جب بہت لوگ جمع تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا کہ اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ کا مطلب بتاؤ۔سب نے بتایا کہ اس میں اسلام کی ترقی اور فتوحات کی پیش گوئی کی گئی ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ تو الفاظ سے ہی ظاہر ہے کچھ اور تناؤ مگر کسی نے کچھ نہ بتایا۔اس پر آپ نے ابن عباس سے پو چھا تو انہوں نے کہا کہ اس میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر دی گئی ہے۔یر شنکر سب نے مان لیا کہ واقعی ابن عباس اس قابل ہے کہ اسے آگے بٹھایا جائے تو انہوں نے کوثر کے یہی معنے کئے ہیں ہے۔پھر حسن بصری رضی اللہ عنہ جو بہت اعلیٰ درجہ کے بزرگی اور پارسا گذرے ہیں انہوں نے بھی خیر کثیری معنے گئے ہیں ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اس لفظ کوثر کے معنوں میں وہ نہر بھی شامل ہے جس کی خبر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے دی ہے لیکن اور بھی جس قدر خیر کی چیزیں ہیں وہ سب اس کے معنوں میں داخل ہیں۔پھر بہت سے تابعین جو قرآن کریم کے مفتر گزرے ہیں انہوں نے یہی معنے گئے ہیں لیے اس سورۃ میں لفظ کو تر رکھ کر خدا تعالے نے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا ہے کہ ہم نے تجھے خیر کثیر دیا ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جو چیز بھی رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو ملی۔اس کا نمونہ کسی اور جگہ نہیں پایا جاتا۔دیکھو کہ اب ملی تو وہ کہ جس کا نمونہ تمام دنیا میں نہیں مل سکتا۔