خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 326

سی - مرقاۃ شرح مشکوۃ رباب صلاة العيدين جلد ۲ ۲۵۲ ة نرو شو - اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابه جلد ۲ ۱۰ تاریخ الخمیس جلد ۲ ۲۶۵ شه - پیدائش باب ۲۲ آیت ۱۳ پیدائش باب ۲۲ آیت ۱۷ شه - الاعوان ۱۷ ۱۵۹ - تغییر در منثور جلد ۱۳۵۳ - جلد ۵ ص ۲ زیر آیت کریمه وَمَا أَرْسَلْنَاكَ الاعاقه للناس رسبا شه - با تو خان روفات (۶۱۳۵۵) جوچی کا بڑا لڑکا اور چنگیز خاں کا پوتا ، روسس کا فاتح اور اردو کے مطلا رخانوادہ زریں کا بانی تھا۔اپنے سمدھروں میں نیک دل خان کے نام سے مشہور تھا۔بعض غیر جانبدار مورخین نے اسے بڑا انصاف پسند، نیک خصلت اور دانش مند بادشاہ قرار دیا ہے ، طبقات ناصری میں لکھا ہے کہ وہ جنگ میں اپنے دشمنوں سے بڑا ظالمانہ سلوک کرنا تھا۔مگر اپنی رعایا کے حق میں بڑا رحم دل تھا۔اس کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ در پردہ مسلمان تھار انسائیکلو پیڈیا آف اسلام جلد ( ص ) با تو خان کے بعض اوصاف کی تفصیل کے لئے دیکھیں تاتاریوں کی یلغار - مؤلفہ ہیرلڈ نیم مترجمه عزیز احمد ص ۲۲ تا ما ۲۳ قبلائی خان روفات ۶۱۲۹۴) تولوئی کا بیٹا۔چنگیز خان کا پوتا اور چین کا فاتح تھا۔چین کی تاریخ میں قبلائی کے خاندان کو یو آن (بیرونی) خاندان کہتے ہیں۔اس کے عہد میں رفاہ عامہ کی طرف توجہ دی گئی چنانچہ سڑکوں اور ڈاک کا انتظام کیا گیا۔یتیموں اور بوڑھے عالموں کے لئے وظیفے مقرر ہوئے بیماروں کے لئے ہسپتال بن گئے۔ملکی نظم ونسق میں مسلمان ناظموں اور مدبروں کا بہت عمل دخل تھا رانسائیکلو پیڈیا تاریخ عالم جلد ۲ و ۲۳۵ چنگیز خان (۶۲ ۱۱ - ۶۱۲۲۷) کا آبائی نام تموجین تھا۔اس نے تاتاریوں کے متفرق گروہوں کو متحد کر کے ایک خوفناک طاقت بنا دیا۔اور خود چنگیز خاں (نہایت عظیم الشان) کا لقب اختیار کیا۔اس کے ماتخت منگول کی فتوحات کا سلسلہ دور دور تک پہنچ گیا۔چنگیز خاں نے دنیائے اسلام کے اکثر بڑے بڑے شہر بہ باد کر ڈالے رانسا ئیکلو پیڈیا تاریخ عالم جلد اول جنت سے ہلاکو خان روفات ۶۱۲۷۴) چنگیز خان کے بیٹے تو لوئی کا تیسرا لڑکا تھا۔اس نے ایران کو فتح کر کے اہل خانی سلطنت کی بنیاد رکھی۔۱۲۵۸ ۶ء میں ہلاکو نے بغداد پر حملہ کیا اور شہر کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔عباسی خاندان کے آخری خلیفہ معتصم باللہ کو قتل کرا دیا۔بے شمار لوگ مارے گئے۔صدیوں کی جمع کی ہوئی دولت تاتاریوں نے لوٹ لی۔بڑے بڑے کتب خانے نذر آتش کر دیئے گئے۔درسگا میں ویران ہو گئیں۔علم و فضل اور جاہ حشمت کا یہ سب سے بڑا اسلامی مرکز کھنڈرات بن کر رہ گیا۔رانسائیکلو پیڈیا تاریخ عالم جلد اول ص ) ے۔تذکرہ ایڈیشن سوم م ، دا ۳۳ ، ۳۷۷ -