خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 322

۳۲۲ مخاطب کر کے فرمایا ہے :۔اے محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو کہد ہے۔اِنّى رَسُولُ اللهِ اِلَيْكُمْ جمیعا۔میں تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔راہ وہ کسی ملک کے ہوں ، خواہ وہ کوئی زبان بولتے ہوں ، تمام روئے زمین پر بسنے والوں کی طرف مجھے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے ملک میں پیدا ہوئے تھے جو تمام دنیا سے منقطع تھا۔وہ متن کے لحاظ سے بھی کمزور تھا۔وہ علمی لحاظ سے بھی کمزور تھا۔وہ سیاسی لحاظ سے بھی کمزور تھا اس کمزور ترین ملک میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کمزور ترین انسان تھے لیکن خدا تعالے نے آپ کو پہلے اس ملک میں غلبہ عطا فرمایا۔پھر مینگوئی کے مطابق آپ کو ابیض و اسود، احمر و اصغر سب میں ہی قبولیت بخشی گئی ہے۔آپ کا دین مختلف قوموں میں پھیلنا شروع ہوا۔یہاں تک کہ وہ دنیا کے کناروں تک پھیل گیا۔چین میں کروڑوں مسلمان ہیں، انڈونیشیا میں نوے فیصدی مسلمان ہیں، انڈین یونین میں پچیس تیس فیصدی مسلمان ہیں۔پچر افغانستان، ایران ، به یا، شام، فلسطین، اپنے سینیا، وسطی افریقیه ، شمالی و جنوبی افریقیه مغربی و مشرقی افریقہ ، امریکہ، ایشیا اور یورپ کے بہت سے علاقوں میں لاکھوں کروڑوں سلمان پائے جاتے ہیں۔پس آج ایک مسلمان اگر عید الاضحیہ مناتا ہے تو اس لئے نہیں کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کو خدا تعالے نے بچالیا یا حضرت ابراہیم علیہ سلام نے بے ایمانی کا نمونہ نہیں دکھایا اور اللہ حکم کے مطابق وہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کو ذبیح کرنے پر تیار ہو گئے بلکہ مسلمان جب عید کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں تو وہ اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ ابراہیم علیہ اسلام کے متعلق خدا تعالئے کی پیش گوئی کہ ستارے گنے جائیں گے لیکن تیری اولاد نہیں گئی جاسکے گی۔پوری ہو گئی ہے۔وہ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ پیش گوئی در اصل محمدی پیش گوئی تھی اور ابراہیمی نسل کے پھیلنے کا وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کا زمانہ تھا۔پس یہ عید بے شک حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کی یادگار ہے۔لیکن یہ اس بات کی شہادت ہے کہ چار ہزار سال قبل حضرت ابراہیم علی یم علیہ السلام پر خدا تعالے کا جو کلام نازل ہوا تھا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے متعلق تھا اور آپ ہی کے ذریعہ پورا ہوا۔اس عید کے ذریعہ ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ اب ابراہیمی نسل وہ نہیں جو حضرت ابراہیم کے نطفہ سے پیدا ہوئی۔ملکہ ابراہیمی نسل وہ لوگ ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے۔آج ہم اس لئے جمع ہوئے ہیں تا اس بات کا اعلان کریں کہ ہم حضرت ابراہیم علیہ سلام کی روحانی اولاد ہیں اور ان پر نازل شدہ خدا تعالیٰ کے کلام کو پورا کرنے والے ہیں۔ہم آج جمع ہو کہ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ کام جو حضرت ابه السیم علیہ السلام پر مکہ میں بھی نہیں بلکہ فلسطین کے جنوبی اور عرب کے شمالی حصہ میں ایک رگیستان و"۔۔