خطبات محمود (جلد 2) — Page 25
۲۵ ور فرموده ۲۸۰ ستمبر ۱۹۴۷ء بمقام کو معی شهزاده واسدیو شین إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَهُ فَصَلَّ بِرَبِّكَ وَانْحَرْهِ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرَه اس عید کو جس کا ہمارے ملک میں لوگوں نے بقرہ عید نام لکھا ہوا ہے معلوم ہوتا ہے یہاں ابتدا نے اسلام میں اس عید کے دن گائیں بہت ذبح ہوتی ہوں گی کہ ہندو اسے بکرا عید کہتے ہیں۔کچھ مدت ہوئی ایک ہندو اخبار نے لکھا تھا کہ مسلمان اس عید پر خواہ مخواہ ہندوؤں کو تنگ کرنے کے لئے گائے ذبح کرتے اور فساد پھیلاتے ہیں۔اس کا تو نام ہی جو بکرا عید ہے بتا رہا ہے کہ بکرے ذبح کرنے چاہئیں۔یہ تو اس کی عربی دانی کی حقیقت تھی۔عربی میں اس کو عید الاضحی کہتے ہیں۔عوام میں یعنی دو پہر کی عید مشہور ہے حالانکہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے تجبل الاطمی و آخر الفطرت یعنی عید الاضحی کو جلدی پڑھوا اور عید الفطر کو دیر سے پڑھو۔یہ امید ہمارے سلسلہ سے خاص تعلق اور مناسبت رکھتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالے نے بھی اس غیر کو ہمارے سلسلہ میں ایک خاص خصوصیت دی ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة و السلام کبھی کسی جمعہ با عید کا خطبہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔مگر ایک مرتبہ اسی عید کیے۔موقعہ پر السلام کے ذریعہ آپ کو حکم ہوا کہ خطبہ پڑھیں۔چنانچہ آپ نے پڑھا اور اب وہ خطہ الہا میں کے نام سے چھپ کر موجود ہے۔تو یہ عید ہمارے سلسلہ سے ایک خاص منابیت اور تعلق رکھتی ہے اور خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کی مناسبت بیان فرمائی ہے جو اس طرح ہے کہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ کو عید الا ضحی سے مشابہت بتائی ہے اور وہ مشابہت اللہ تعالیٰ نے سورۃ کوثر میں بیان کی ہے جو میں نے ابھی پڑھی ہے۔فرماتا ہے۔اِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَهُ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْه إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأَبكر کو شر کے اصل معنی عربی میں خیر کثیر کے ہیں۔اور کوثر کثرت سے نکلا ہے۔یعنی بہت خیر چنا نچہ ان محقق صحابہ نے جو اس بات کو سمجھتے تھے کہ کسی خاص معنوں کے ساتھ کسی آیت کے معنوں کو محدود نہیں کرنا چاہیئے۔انہوں نے اس کے یہی معنی کئے ہیں کہ اللہ تعالے نے آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کوخیر کثیر دی ہے ہے شمار بے نماز عید اور جمعہ شا ہیں شہزادہ واسدیو سنگھ صاحب کی کو بھٹی پر پڑھی گئی۔پونے بارہ بجے خطبہ عید ختم ہوا۔اس کے بعد سنتیں پڑھ کر حضرت نے مختصر سا خطبہ جمعہ پڑھا (الفضل ۲ اکتوبر ۶۱)