خطبات محمود (جلد 2) — Page 313
نیک آدمی ہوں تومیں ان پر اپنا عذاب نازل نہیں کروں گا۔تب ابراہیم نے سمجھا کہ اگر اسی نہیں توستر تو ان میں ضرور نیک ہوں گے اور اس نے کہا۔خدا یا استی کیا اور ستر کیا۔اگر ستر بھی نیک نکل آئیں تو آخر یہ بھی تو ایک بڑی تعداد ہے۔اللہ تعالے نے کہا۔ابرا هستیم! اگر ان میں سنتر بھی نیک آدمی ہوں تو میں ان کو تباہ نہیں کروں گا۔اس طرح گفت گو ہوتے ہوتے حضرت ابراہیم نے کہا کہ خدایا اگر ان میں میں نیک آدمی ہوں تو کیا ان بنیں کا لحاظ نہیں کرے گا۔اور اس بستی کو تباہ کر دے گا۔اللہ تعالے نے کہا اگر اس بستی میں بنتیں بھی نیک آدمی ہوں تب بھی میں اسے تباہ نہیں کروں گا۔تب ابراہم نے یہ مجھکہ کہ اس بستی میں طبی آدمی نہیں ہیں کہا۔خدا یا ! اگران میں اس نیک آدمی موجود ہوں تو کیا ان دس کا لحاظ نہیں رکھا جائیگا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابراہیم اگر ان میں دسنس بھی نیک آدمی ہوں تو میں ان کو تباہ نہیں کروں گا۔تب ابر استیم خاموش ہو گیا اور اس نے سمجھ لیا کہ ان بستیوں میں دس بھی نیک آدمی نہیں ہیں اور یہ اس ت بل ہیں کہ ان کو عذاب سے تباہ کر دیا جائے یہ تو دیکھو کچھ افراد کی نسبت بھی ایک قابل لحاظ نسبت ہوتی ہے۔اگر وہ نسبت پوری ہو جائے تو قوم پر سے الزام دور ہو جاتا ہے۔اور اگر یوری ہو تو ساری قوم اللی مواخذہ کے نیچے آجاتی ہے۔ہماری جماعت کو بھی غور کرنا چاہیئے کہ کیا قربانی کے لحاظ سے اس کے افراد کے اندر وہ نسبت پائی جاتی ہے جو اللہ تعالنے کی ناراضگی سے محفوظ رکھنے والی ہوتی ہے۔اگر نہیں تو یہ کتنے بڑے خون کا مقام ہے کہ وہ دعوئی تو ایمان کا کرتے ہیں اور عمل وہ کرتے ہیں جو ایمان کے خلاف ہوتا ہے۔میں سمجھتا ہوں اب بھی اس واقعہ کے بعد جب کہ جماعت اس قربانی میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہے اور وہ اپنی اولادوں کو اس رنگ میں خدمت دین کے لئے پیش کرنے کو تیار نہیں ہوتی اور اگر پوچھا جائے کہ کیا تم خدا کے لئے قربانی کرنے کے لئے تیار ہو تو تم سب کھڑے ہو کر کہنے لگ جاؤ گے کہ ہاں جی اہم تیار ہیں۔حالانکہ واقعہ یہ ہوگا کہ تم اول درجہ کے مجرم ہو گے۔یہ تو ویسی ہی بات ہوگی جیسے صلیخانہ میں کوئی شخص تقریر کرے اور کئے کہ چوری نہیں کرنی چاہئیے تو تمام چور کھڑے ہو جائیں اور کہیں کہ ہاں ہاں چوری ہرگز نہیں کرنی چاہیئے ، ہم چوری کو بہت برا سمجھتے ہیں۔حالانکہ چور تو چوری کر چکا، اب اس کا یہ کہنا کہ چوری نہیں کرنی چاہیئے کیا حقیقت رکھتا ہے۔اس طرح جس فعل کے تم مرتکب ہو چکے جو اس کے بعد تمہارا یہ کہنا کہ ہم اپنی جانیں خدا تعالے کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں اس سے زیادہ جھوٹ اور کیا ہو سکتا ہے۔حالانکہ مومن کی حالت تو یہ ہوئی ہے۔کہ اگر کوئی ایسی جگہ پیدا ہو جو وادی غیر ذی زرع کا سارنگ رکھتی ہو تو اس کا دل خوشی سے اُچھلنے لگتا ہے اور وہ مجھتا ہے کہ آج مجھے خدا کا شکر ادا کرنا چاہئیے کہ اس نے مجھے بھی ابراہیمی نمونہ دکھانے کا موقعہ دیا۔یہی وجہ ہے کہ جب سے یہ واقعہ ہوا ہے میں نے یہ عہد کیا ہوا ہے