خطبات محمود (جلد 2) — Page 308
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دو فعل کئے تھے ایک انہوں نے اپنے بیٹے کی قربانی پیش کی اور دوسرے اس کی یاد میں انہوں نے بکرے کی قربانی پیش کی۔مگر آج کے دن مسلمان کیا کرتے ہیں۔وہ بکرے کی قربانی تو پیش کرتے ہیں لیکن بیٹے کی قربانی بھول جاتے ہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے۔جیسے کہتے ہیں کہ ایک خادمہ رمضان کے دنوں میں باقاعدہ سحری کے وقت اپنی مالکہ کے ساتھ اٹھتی اور پھر سحری تو کھا لیتی مگر روزہ نہیں رکھتی تھی۔گھر کی مالکہ ایک شریف اور رحمدل عورت تھی اس نے خادمہ کی اس حالت کو د بھیک سمجھا کہ یہ شاید ہماری خدمت کے لئے اٹھتی ہے اور چونکہ ہیں وقت ہمارے پاس بیٹھی ہوئی ہوتی ہے اس لئے سحری بھی کھا لیتی ہے چنانچہ دو چار دن کے بعد ماسکو نے اس خادمہ سے کہا کہ بیٹی تو رات کو نہ اُٹھا کر۔ہم خود کام کر لیا کریں گے ، تجھے بلاو و تکلیف ہوتی ہے۔اس پر وہ لڑکی بڑی سادگی سے کہنے لگی کہ بی بی انتہا تو سوچو کہ روزہ نہیں نہیں رکھتی۔نماز میں نہیں پڑھتی۔اگر سحری بھی نہ کھاؤں تو کافر ہی ہو جاؤں۔اس مثال یہ عظیم سب ہنس پڑے ہو۔لیکن کیا تم سوچتے نہیں کہ تمہاری بھی یہی حالت ہے کہ تم اپنے بیٹے کو وادتی غیر ذی زرع میں رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔تم اپنے بیٹے کو اللہ تعالے کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔گویا روزہ تم نہیں رکھتے، نماز تم نہیں پڑھتے، لیکن بکرے کی قربانی کرنے اور اس کا گوشت کھانے کے لئے فوراً تیار ہو جاتے ہو اور تم پر بھی وہی مثال صادق آتی ہے کہ اگر میں سحری بھی نہ کھاؤں تو کا فری ہو جاؤں۔حقیقت یہ ہے کہ کوئی نسل اور کوئی قوم اور کوئی خاندان اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنی اولاد کی تربانی پیش نہ کرے جس طرح کوئی زمیندار اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے حاصل شدہ شکہ کی قربانی نہ کرے۔زمیندار ہل چلاتا، زمین کو نرم اور ہموار کرتا اور پھر بطور بینچ اپنا وہ غلہ زمین میں ڈالتا ہے۔جو کہا کہ وہ اپنے گھر میں لاچکا ہوتا ہے اس امید پر کہ اس کے ہاں موہوم غلہ پیدا ہوگا۔جو چیز وہ زمین میں ڈالتا ہے وہ یقینی اور قطعی ہوتی ہے اور جو چیز پیدا ہونے والی ہوتی ہے وہ وہی ہوتی ہے مگر کامیاب و ہی زمیندار ہوتا ہے جو ایک وہی چیز کے لئے اپنی حاضر چیز کو قربان کر دیتا ہے۔جو زمیندا اس بات کے لئے تیار نہیں ہوتا کہ اپنے حاضر غلہ کو موسوم غلہ کے لئے قربان کر دے ، وہ خود بھی آئندہ ترقی سے محروم رہتا ہے اور اپنے ملک کو بھی آئندہ ترقی سے محروم رکھتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی قوم یہ مجھتی ہے کہ اس کی اولاد کی حاضر نہ ندگی زیادہ قیمتی ہے اور وہ اپنی اولاد کو آئندہ کی زندگی کے حصول کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتی، وہ بھی انسی طرح تباہ ہو جاتی ہے جس طرح وہ زمیندار تباہ ہو جاتا ہے جو اپنے حاضر غلہ کو محفوظ رکھتا ہے