خطبات محمود (جلد 2) — Page 296
۲۹۶ توڑ دی جس طرح بچوں سے کھلونے کے متعلق سوال کیا جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالے شخص سے دریافت کرے گا کہ اس نے اپنے اپنے حلقہ اثر میں اپنی ذمہ داریوں کو کہاں تک ادا کیا ہے۔ریعیت کے معنے لفظی طور پر خواہ کچھ ہوں حُلُكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُوكَ عَنْ عین میں ہر وہ چیز مراد ہے جو کسی کے سپرد کی جاتی ہے خواہ وہ جاندار ہویا ہے جان جاندا چیزوں میں اس کا مفہوم اور معنوں کے لحاظ سے آ جائے گا اور بیچان چیزوں میں اس کا مفہوم اور معنوں کے لحاظ سے آجائے گا۔بہر حال ہر شخص پر کچھ نہ کچھ ذمہ داری ہوتی ہے مگر وہ ذمہ داری نسبتی ہوتی ہے۔بسا اوقات جس کے سپرد کوئی کام کیا جاتا ہے اس کے اُوبر اور افسر ہوتے ہیں، اور ان کے اوپر اور افسر ہوتے ہیں۔اگر نسبت کے اصول کو ہم نظر انداز کہ دیں تو کارخانہ عالم سب درہم برہم ہو جائے۔اس دنیا میں نسبت کے لحاظ سے سب سے زیادہ اہمیت اللہ تعالے کے وجود کو حاصل ہے۔اللہ تعالیٰ کی حیثیت ایک خالق اور بالک کی ہے اور باقی جس قدر ہستیاں ہیں وہ سب اس کی مخلوق اور مملوک ہیں۔اس وجہ سے اس دنیا میں یا ہر دنیا میں سب سے مقدم مقام اللہ تعالٰی کی آواز کو حاصل ہے اور سب سے زیادہ اہمیت اللہ تعالے کے حکم کو حاصل ہے۔جہاں اللہ تعالے کی آوازہ آئے گی ، وہاں دوسروں کی آواز ہمیں دبانی پڑے گی۔اور جہاں اللہ تعالے کا حکم آئے گا وہاں دوسروں کے احکام کو ہمیں نظر انداز کرنا پڑے گا۔ورنہ ہماری حیثیت ایک باطنی کی سی ہو گی۔ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ لاکھوں لاکھ غریب جو دوسروں کی ملازمت پر گزارا کرتے ہیں ان کے اپنے جذبات ان کے مالکوں کے جذبات کے مقابلہ میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے۔ایک مشاطہ کا بچہ فوت ہو جاتا ہے، ایک دھوبی کے گھر موت واقع ہو جاتی ہے ایک نائی کا عزیز اسے چھوڑ چکا ہوتا ہے مگر اس کے باوجود وہ مجبور ہوتے ہیں کہ مسکراتے ہوئے پروں کے ساتھ اپنے آقاؤں کی خدمت کریں اس لئے کہ وہ خادم ہیں اور ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے اپنے آقا کے مقصد اور مدعا کو پورا کریں خواہ انہیں خوشی ہو یا نمی۔رنج ہو یا راحت - حالانکہ دھونی سے کپڑے دھلانے والے کا یا نائی سے حجامت بنوانے والے کا با مشاطہ سے چوٹی کروانے والی کا دھوبی یا نائی یا مشاطہ سے کتنا چھوٹا اور محدود تعلق ہوتا ہے۔بسا اوقات دھوبی کی خدمت زیادہ ہوتی ہے ، نائی کی خدمت زیادہ ہوتی ہے۔مشاطہ کی خدمت زیادہ ہوتی ہے اور جو کچھ ان کے آقاؤں کی طرف سے انہیں معاوضہ میں ملتا ہے وہ بہت کم ہوتا ہے کیونکہ عام طور پر امراء اپنی طبیعت میں خشت رکھتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں امراء کی یہ حالت ہوتی