خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 288

YAA کی پوری آمدن سے بھی دگنی رستم ہے۔پس اگر باقی مسلمان بھی ہماری جماعت کے برابر نشر بانی کریں تو چالیس کروڑ روپیہ سالانہ کی رفتم اکھٹی کر سکتے ہیں اور اس رقم سے وہ اپنی ہر قسم کی مشکلات کو آسانی سے دُور کر سکتے ہیں مثلاً آجکل ایک ہوائی جہاز پچیس نیس ہزار روپیہ ہیں مل سکتا ہے اور ایک لاکھ روپیہ میں چار ہوائی جہاز خریدے جاسکتے ہیں۔اور ایک کروڑ روپے میں چار سو ہوائی جہاز خرید سے جاسکتے ہیں۔چار سو ہوائی جہاز وہ طاقت ہے جس سے دنیا کے ہر گوننے کے مسلمانوں کی نگرانی اور خبر گیری کی جاسکتی ہے۔اگر وہ لوگ ہمارے برابرہ قربانی کریں تو چالیس کروڑ روپیہ سالانہ اکٹھا کر سکتے ہیں اور اگر اس میں سے صرف ایک کروڑ روپیہ کے ہوائی جہاز خرید لیں تو تمام دنیا کے مسلمانوں کی خبر گیری ہو سکتی ہے۔بہار کے متعلق اخبارات کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں چار سو مسلمان مارے گتے ہیں مگر ہماری جماعت کے آدمیوں نے جور پورٹ بھیجوائی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ صرف ایک علاقہ میں ہی دو ہزار مسلمان مارے گئے ہیں اور یہ بھی خبر ہے کہ ایک جگہ تین سو میل کے لیے علاقہ کے اندر کوئی ایک مسلمان بھی نہیں رہا، سب مارے گئے ہیں۔یہ حالت مسلمانوں کی کیوں ہوئی اس لئے کہ ان کی خبر لینے والا کوئی نہ تھا او وہ خود اپنی خبر کسی کو پہنچا نہ سکتے تھے اور مسلمانوں کو پتہ بھی نہیں کہ کون مرا اور کون جیا۔اب مسلمان لیڈرا اعلان کر رہے ہیں کہ ہمیں سب حالات کا علم دیا جائے مگر سوال تو یہ ہے کہ ان کو یہ کون د ہے چونکہ مسلمانوں میں مالی قربانی کی عادت نہیں اس لئے یہ انتظام ہونا مشکل ہے اپنے انتظاما جانی قربانی سے نہیں بلکہ مالی قربانی سے ہوا کرتے ہیں۔اگر مسلمان مالی قربانی کرتے تو انہیں یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔اسی طرح اور ہزاروں طریق اور ذرائع ہو سکتے تھے جن کو استعمال کر کے ایسے فسادات کا اندفاع ہو سکتا تھا۔اگر دوسرے مسلمان ہماری جماعت کا دسواں حصہ بھی قربانی کرتے تو چار کروڑ روپیہ سالانہ کی رقم فراہم کر سکتے تھے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ آج کا مسلمان جانی قربانی تو دیتا ہے مگر مالی قربانی سے دریغ کرتا ہے۔آج کا جھوٹا ابراہیم جانی قربانی تو کر سکتا ہے مگر بچے ابراہیم کی طرح اس کے ساتھ دُنبہ قربان نہیں کر سکتا حالانکہ قومی ترقی کے لئے بسا اوقات دُنبے کی قربانی نہایت ضروری ہوتی ہے۔آج دنیا میں صرف اور صرف ہماری جماعت ہے جو دونوں قسم کی قربانیاں کر رہی ہے۔وہ جانی قربانی بھی پیش کر رہی ہے اور دینے کی قربانی بھی پیش کر رہی ہے۔میں علیے خطبہ کے بعداب اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالے بعض چھوٹی چیزوں سے بھی ایمان کی آزمائش کیا کرتا ہے رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر عید کے ساتھ کچھ چھوٹی چھوٹی باتیں رکھ دی ہیں۔ان میں سے پہلی بات جو ہر عید کے ساتھ رکھی ہے یہ ہے کہ عید