خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 286

۲۸۶ کی طرف اُٹھتا نظر ہی نہیں آتا۔میں جب دتی گیا تو لوگوں نے مجھ سے ایسے واقعات کا ذکر کیا ان کو کبھی میں نے یہی کہا تھا کہ اگر چندہ کے ذریعہ مسلمانوں سے روپیہ اکٹھا کیا جائے تو ان کی حالت سدھر سکتی ہے۔مگر انہوں نے کہا ہم کیا کریں۔لوگ روپیہ نہیں دیتے۔پس آج یہ حالت ہے کہ مسلمان یہ تو برداشت کر لیتا ہے کہ اس کی بیوی بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔مسلمان یہ تو برداشت کر سکتا ہے کہ اس کے گھر کو جلا دیا جائے اور مسلمان یہ تو برداشت کر سکتا ہے کہ اس کے مال کو لوٹ لیا جائے اور وہ اس کے لئے بھی تیار ہو جاتا ہے کہ دشمن کو قتل کر دے یا اس کے گھر کو جلا دے مگر وہ یہ ہر گز برداشت نہیں کر سکتا کہ اپنے مال کا دسواں حصہ ہی اپنے ہاتھ سے دے کر اپنی قوم اور اپنی جان کو بچائے۔پس یہ وہی زمانہ ہے کہ اگر جان مانگو تو حاضر اور اگر مال مانگتے ہو تو ہمیں اس میں اعتراض ہے۔یہ موجودہ دور نہایت ہی نازک حالات میں سے گزر رہا ہے۔اور عید قربان ہمیں یہی سبق سکھاتی ہے کہ صرف جانوں کو ہی نہیں بلکہ اپنے اموال کو بھی قربان کرو۔چنانچہ جہاں اللہ تعالے نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام کے ذریعہ یہ سنت قائم کی کہ جانوں کو قربان کیا جائے۔جہاں یہ فرمایا کہ انسانی قربانی ناجائز قرار دی جاتی ہے وہاں ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ بسا اوقات صرف جانی قربانی سے کام نہیں چلتا بلکہ اس کے ساتھ مالی قربانی بھی ہونی چاہئیے ، ورنہ تمہاری قربانیاں حقیقت کا رنگ اختیار نہیں کر سکتیں۔آج خیر احمدی مسلمانوں پہ وہی دور آیا ہوا ہے کہ مالی قربانی کا نام ہی نہیں لیتے۔آخر احمدی بھی تو مسلمانوں میں سے ہی آئے ہوئے ہیں احمدی خواہ اتنی قربانی نہ کریں جتنی قربانی کا خدا تعالے ان سے مطالبہ کر رہا ہے اور خواہ وہ اتنی قربانی نہ کریر متنی قربانی کا مطالبہ ان کا امام ان سے کر رہا ہے بہر حال جماعت احمدیہ نے قربانی کی ایک مثال دنیا میں قائم کر دی ہے۔ایک چھوٹی سی جماعت ہونے کے باوجود دنیا بھر کے کونے کونے میں اسلام کے مشن قائم کر دیئے ہیں۔ہمارے نوجوان اپنی نوکریاں چھوڑ کر اپنے عزیز ہو اقارب کی محبت کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے امام کے حکم پر لبیک کہنے ہوئے اعلائے کلیہ الہ کیلئے نکل گئے ہیں۔ہیں خدا تعالی کے فضل سے احمدی جانی قربانی بھی پیش کر رہے ہیں اور مالی قربانی بھی پیش کر رہے ہیں۔وہ جانی قربانی بھی نہایت اعلیٰ درجہ کی تھی جو ہمارے احمدیوں نے افغانستان ، اور دوسرے غیر ممالک میں شہید ہو کر پیش کی لی لیکن یہ جانی قربانی بھی قابل قدر ہے جو ہندوستان کے کئی علاقوں میں احمدیوں نے پیش کی ہے۔ہندوستان میں بھی انہیں طرح طرح کی مصائب اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ان کا بائیکاٹ کر دیا گیا اور وہ خود بھی اور ان کے بیوی بچے بھی فاقوں ہے رہے۔پھر یہ بھی عظیم الشان جانی قربانی ہے کہ ہماری جماعت کے سینکڑوں