خطبات محمود (جلد 2) — Page 21
۴۱ ی بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا خدا تعالے پر ایمان نہیں۔اگر ان میں حضرت ہاجرہ جتنا ایمان ہوتا۔تو وہ کبھی یہ خیال بھی نہ کرتے اور دین کے راستہ میں اپنی جانوں اور مالوں وغیرہ کو خرچ کرنے سے ذرا بھی نہ گھبراتے۔اور یقین رکھتے کہ اس طرح خرچ کرنے سے ہمارے اموال ضائع نہیں جائیں گے بلکہ اس کے بعد اتنے انعامات حاصل ہوں گے کہ جنہیں ہم شمار بیجا نہ کر سکیں گے تو یہ ایسان کی کمزوری ہے۔عید ہر سال اسی کمزوری کے دورہ کرنے کے لئے آتی ہے۔تا کہ وہ لوگ جنہیں یقین نہ ہو کہ کس طرح خدا کے راستہ میں ایک دانہ خرچ کرنے سے اس قدر پھل مل سکتے ہیں انہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نمونہ دکھا دیا جائے۔جید کو عام لوگ ایک میلہ سمجھتے ہیں۔مگر دراصل پیران کے لئے تازیانہ عبرت ہے۔تا کہ وہ بیدار اور ہوشیار ہوں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں اور وہی برکت حاصل کریں جو انہیں حاصل ہوئی مگر افسوس کہ بہت لوگ اس میں سستی اور کو تاہی کرتے ہیں۔ہماری جماعت کے لئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قربانی کا زندہ نمونہ موجود ہے۔جب آپ نے دعوی کیا۔اس وقت آپ کی کیا حالت تھی۔قادیان میں بھی اکثر لوگ آپ کو نہ جاتے تھے یا اور آپ یہ دعوئی سے کہتے کہ کوئی اس بات کی تردید کرے کہ دھونی سے پہلے میرے نام کوئی خط تک نہ آتا تھا مگر خدا تعالے کے لئے قربانی کر کے جس قدر اس کو پوشیدہ رکھا جا۔اسی قدر زیادہ خدا تعالئے اسے ظاہر کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کہتے کہ میں نے اپنے آپ کو دنیا سے چھپانا چاہا مگر خدا تعالے نے مجھے کھڑا کر دیائیے اور ایسا کھڑا کیا کہ اب دنیا کے چاروں کونوں سے آپ کی قربانی کے پھل پیدا ہورہے ہیں۔کوئی افریقہ سے کوئی امریکہ سے کوئی ایران سے کوئی ہندوستان سے کوئی افغانستان سے کوئی یورپ سے۔فضیکہ ہر علاقہ میں آپ کی شاخیں پھیل کر پھل پیدا کر رہی ہیں۔پھر دیکھو آپ کو کس بات کی کمی رہی۔آپ نے خدا تعالے کے لئے گالیاں نشنیں ، مگر گالیاں دینے والے آپ کو اس جوش سے گالیاں نہیں دیتے تھے میں جوش سے اب آپ پر درود بھیجنے والے پیدا ہو گئے ہیں۔پھر آپ نے خدا تعالے کے لئے اپنے ایسے رشتہ دار اور دوست چھوڑے جو اپنی شرض اور مطلب کے تھے لیکن ان کے بدلہ میں خدا تعالے نے ایسے رشتہ دار اور دوست دیتے جو آپ کے نام پر جانیں قربان کرنے کو تیار ہیں۔پہلے رشتہ دار اور دوست ان کا کہاں مقابلہ کر سکتے ہیں وہ ایسے تھے کہ جب تک حضرت صاحب ان کو دیتے اور ان کی حاجتیں پوری کرتے وہ آپ کے ساتھ تھے اور اگر کچھ نہ دیتے تو الگ۔لیکن ان کی بجائے جو خدا نے دیئے وہ ایسے تھے کہ خود مصر صاحب کو اپنا مال دیتے اور اس بات کو اپنے لئے موجب فخر سمجھتے ، یہ کتنا بڑا فرق ہے۔ایک تو