خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 278

۳۳ ر فرموده ۲۷ نومبر ۱۹۳۳ء بمقام قادیان) جھے چونکہ شدید نزلہ اور کھانسی ہے اور میں صرف عید کی وجہ سے یہاں آگیا ہوں۔اس لئے میں بہت ہی اختصار کے ساتھ چند باتیں کہوں گا۔جیسا کہ ہر مسلمان کو اس بات سے واقف ہونا چاہیئے یہ عید جو عید الاضحیہ کہلاتی ہے یعنی قربانی کی عید حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کی یاد ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا! تعالے کے حضور میں پیش کی تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رو یاد میں دیکھا کہ گویا انہوں نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالے کی راہ میں ذبح کر دیا ہے۔اور چونکہ اس وقت تک انسانی قربانی کی مانفت کا حکم نہ ہوا تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہی سمجھا کہ شاید ان سے حضرت اسمعیل کی قربانی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔حضرت سمعیل علیہ السلام اس وقت چھوٹے سے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کو بتایا کہ میں نے اس قسم کی رؤیا دیکھی ہے اور حضرت اسمعیل علیہ السلام نے جو ایک اچھی تربیت پائے ہوئے بچہ تھے ، باپ کے اس رڈیا کو سن کر اس بات کی اہمیت کو سمجھ لیا کہ خدا تعالیٰ کا حکم ہر حال پورا ہونا چاہیئے۔اور انہوں نے اپنے والد سے کہدیا کہ آپ اپنی رڈیا کو پورا کریں میں اس قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنے کو تیار ہوں۔لیکن جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کے گلے پر چھری پھیر نی چاہی تو اللہ تعالے نے المانا انہیں تبا دیا کہ در حقیقت رڈیا کی تعبیر اور تھی۔اور کہ تم نے ظاہری طور پر بھی اپنی اس رویا کو پورا کر دیا ہے ہے کیونکہ تم نے اپنے بیٹے کوئی الواقع ذبح کرنے کا ارادہ کیا اور اس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلامہ نے اپنی نسل کو خدا تعالے کی راہ میں قطع کرنے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ اس وقت تک ان کے ہاں صرف ایک ہی بچہ تھا تو اس کے بالمقابل خدا تعالے نے فیصلہ کیا کہ میں تیری نسل کو کبھی قطع نہ ہونے دوں گا۔اور خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ دیکھ لو آج سے سو سال قبل حضرت مسیح علیہ السلام پیدا ہوئے اور ان سے قریبا چودہ سو سال قبل حضر موسی علیہ السلام پیدا ہوئے۔یہ گویا ا ۳۳ سو سال ہوئے اور حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے انداز چھ سو سال قبل حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوئے یہ گویا چار ہزار سال کے قریب کا زمانہ ہے جب ایک دن ایک غیر آباد علاقے میں خدا تعالے کا ایک نامور اور ایک نبی اپنے اکلوتے بیٹے کو جو انٹی سالی کی عمر میں ان کے ہاں پیدا ہوا تھا ایک سنسان جنگل میں اس نئے لے گیا کہ